ماسکو (صداۓ روس)
ماسکو میں بین الاقوامی کانگریس “دنیا کو باپ کی ضرورت ہے” کے فریم ورک میں بین الاقوامی بین المذاہب ” دعائے امن” کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں یورپ، ایشیا، افریقہ، شمالی اور جنوبی امریکہ کے 20 ممالک کے پارلیمنٹیرینز، روحانی رہنما اور عوامی شخصیات نے شرکت کی۔ یہ تقریب کانگریس کے پہلے دن کی اہم سرگرمیوں میں سے ایک تھی جو انٹرنیشنل یونین آف فادرز نے ورلڈ ایسوسی ایشن آف کرسچن پارلیمنٹیرینز کی حمایت سے منعقد کی تھی۔
اس تقریب میں شرکت کرنے والے ممالک میں جنوبی امریکہ: ارجنٹائن، برازیل، پیراگوئے، پیرو، ایکواڈور —افریقہ: برکینا فاسو، ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو، زیمبیا، کیمرون، یوگانڈا، سنٹرل افریقی ری پبلک، ایتھوپیا — ایشیا: انڈیا، کرغزستان، پاکستان —-یورپ: جرمنی، لکسمبرگ، روس، رومانیہ —- شمالی امریکہ: امریکا شامل تھے.
اس تقریب کے دوران روسی، امریکی، برازیلی، رومانی، انڈین، پاکستانی، کرغزستانی اور سنٹرل افریقی ری پبلک کے نمائندوں نے شرکت کی جبکہ دیگر ممالک کے شرکا آن لائن جڑے۔
اسے مختلف ممالک اور مذاہب کے لوگوں کے درمیان امن، باہمی تفہیم اور تنازعات کے خاتمے کی طرف ایک روحانی عمل کے طور پر دیکھا گیا۔ شرکا نے زور دیا کہ عالمی تناؤ کے دور میں مشترکہ اخلاقی اقدار ہی مکالمہ، احترام اور انسانی تعاون کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ – دیمتری کوزنیٹسوف (روسی ڈپٹی) نے کہا ہمارا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ عیسیٰ مسیح کی محبت کسی بھی سیاسی اختلاف سے بڑی ہے، دیگر شرکا نے بھی امن، انصاف، خاندانی اقدار اور بین الاقوامی تفہیم پر زور دیا۔ یہ ” دعائے امن” 2025 میں سوچی اور بوداپیشت کے بعد تیسری اہم تقریب تھی۔