پاکستان میں پیٹرول کی قلت کا خدشہ، آئل کمپنیز نے حکومت کو متنبہ کر دیا

Petrol pump Petrol pump

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

پاکستان کی آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے وفاقی حکومت کو ایک ہنگامی مراسلہ جاری کرتے ہوئے ملک میں پیٹرول کی ممکنہ قلت سے متعلق شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صنعت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری مالی اور انتظامی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں، خاص طور پر بالاٸی علاقوں میں پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

مراسلے کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کا موجودہ ذخیرہ صرف 370 ہزار ٹن ہے، جو ملک کی اوسط ماہانہ طلب کے پیش نظر محض 15 روز کے لیے کاٖفی ہے۔ او سی اے سی کے مطابق کسٹمز کلیئرنس میں تاخیر کی وجہ سے درآمدی پیٹرول بروقت مقامی مارکیٹ تک نہیں پہنچ پا رہا، جس سے سپلائی چین پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کی ایک درآمدی کھیپ کی منظوری میں تاخیر بھی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔

تیل کمپنیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے زیرِ التوا 66 ارب 70 کروڑ روپے کی قیمت میں تفریق کے دعوے (PDC) فوری طور پر ادا کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور قرضوں کی بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے صنعت شدید مشکلات کا شکار ہے، جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی بروقت درآمد متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف صدر پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سندھ امیر خان اور وائس چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن طارق حسن نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ-ایران جنگ اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرول پمپس پر ایلوکیشن عائد کر دی ہے، جس سے سپلائی میں کمی کا سامنا ہے اور ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔