روس کا تمام اقسام کے ڈرونز کے خلاف ‘پیرون’ لیزر سسٹم کا تجربہ

Russian Perun laser system Russian Perun laser system

ماسکو (صداۓ روس)

روس میں ڈرونز کے خلاف جدید ترین لیزر سسٹم ‘پیرون’ کا تجربہ کیا جا رہا ہے، جو مسلسل 15 منٹ تک لیزر شعاع خارج کر سکتا ہے۔ سواروگ ریسرچ اینڈ پروڈکشن سنٹر کے ترجمان نے خبر رساں ادارے تاس کو بتایا کہ یہ نظام تمام اقسام کے ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اسے دفاعی صنعت، ایندھن اور توانائی کی سہولیات، نقل و حمل اور اہم انفراسٹرکچر بشمول بندرگاہوں کے تحفظ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ پیرون کو موبائل جنگی ٹیموں کے حصے کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس نظام کی بیٹری 15 منٹ تک مسلسل لیزر شعاع خارج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ اس کی جنگی ڈیوٹی کا وقت 5 گھنٹے تک ہے۔ سسٹم کی مار کرنے کا دائرہ 5 کلومیٹر تک ہے اور اس کا آپریشن سستا ہے، کیونکہ ایک شاٹ (10 سیکنڈ مسلسل لیزر شعاع) کی لاگت تقریباً 205 روبل بتائی گئی ہے۔

پیرون کو اسٹیشنری شکل میں 20 فٹ کے سمندری کنٹینر میں رکھا جاتا ہے جبکہ اس کا موبائل ورژن 5 ٹن کی گنجائش والے کارگو چیسس پر نصب کیا جاتا ہے۔ سسٹم میں دو محور والا برج اور برج کنٹرول یونٹ، کھوج اور نشانہ بندی کے کیمروں کے ساتھ تھرمل امیجر شامل ہے۔ پیرون مصنوعی ذہانت سے چلنے والے وژن اور نشانہ بندی کے نظام سے لیس ہے، جو نیورل نیٹ ورک اور تجزیاتی ڈیٹا پروسیسنگ کے ذریعے اہداف کی شناخت، درجہ بندی اور رہنمائی کرتا ہے۔

سواروگ کے مطابق فیلڈ ٹیسٹنگ کے دوران پیرون نے ڈرونز کے خلاف اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کمپنی کے نمائندے نے بتایا کہ ٹیسٹنگ کے دوران پیرون نے تمام اقسام کے ڈرونز—چاہے وہ FPV ہوں یا فکسڈ ونگ والے—کو تباہ کرنے میں بہترین کارکردگی دکھائی۔ لیزر روشنی کے ذریعے نظام ڈرون کے کیمروں، بیٹریوں، برقی موٹروں، پروپیلرز اور ڈرون کے پروں کو اندھا اور تباہ کر دیتا ہے۔