ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے معاہدے کی مخالفت کے لیے امریکی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بدھ کو امریکی پوڈکاسٹر جو روگن کو دیے گئے انٹرویو میں وینس نے واشنگٹن کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک کے خلاف غیر معمولی سخت تنقید کی۔ وینس نے گزشتہ ماہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ “میں پوری طرح جانتا ہوں کہ اسرائیلی حکومت کے اندر کچھ ایسے افراد ہیں جو حقیقت میں اس پالیسی سے ہمیں ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ فوجی مہم جاری رکھنا چاہتے ہیں۔” وینس، جنہیں بہت سے لوگ مستقبل کے ممکنہ صدارتی امیدوار کے طور پر دیکھتے ہیں، اس سے قبل بھی اسرائیل پر تنقید کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان عوامی اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
وینس نے روگن کو بتایا کہ “ایک حقیقی غیر ملکی اثر و رسوخ کی مہم کو فنڈ کیا جا رہا ہے تاکہ اس معاہدے کو ناکام بنایا جا سکے جسے میں آگے بڑھا رہا تھا۔” انہوں نے ٹائم میگزین کی پیر کو شائع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ کے سابق مہم منیجر کو اسرائیل کی جانب سے امریکی خیالات اور ایران جنگ کو متاثر کرنے کے لیے ڈیجیٹل مہم چلانے کے لیے رکھا گیا تھا۔ وینس نے کہا کہ “آپ نے یہ بہت خفیہ، انتہائی فنڈڈ مہم دیکھی ہے جو مذاکرات کو پٹری سے اتارنے اور معاہدے کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ہم پوری طرح جانتے ہیں کہ ان کے نظام کے اندر کچھ ایسے افراد ہیں جو امریکی رائے عامہ کو جوڑ توڑ اور تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ جنگ کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھا جا سکے۔”
الجزیرہ کی واشنگٹن سے رپورٹنگ کرتے ہوئی پیٹی کلہین نے کہا کہ وینس کا جن اسرائیل سے منسلک اثر و رسوخ کی مہم کا حوالہ ہے، اس کا مقصد ممکنہ طور پر “ٹرمپ کے MAGA بیس کو متاثر کرنا ہے”، جو اسرائیل کے بارے میں امریکی پالیسی پر تقسیم کا شکار ہے۔ کلہین نے کہا کہ “یہی وجہ ہے کہ وینس جو روگن پوڈکاسٹ پر گئے۔ روگن ملک کے سب سے مقبول پوڈکاسٹرز میں سے ایک ہیں اور MAGA بیس بنانے والے نوجوانوں کو متاثر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔