صدر پوتن کا جادو چل رہا ہے، کامیاب سفارت کاری سے روس دنیا میں تنہا نہیں

Putin Putin

ماسکو (صداۓ روس)

روسی صدرولادیمیر پوتن کی سفارت کاری نے مغربی پابندیوں اور تنہائی کی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے، اور روس آج عالمی سطح پر ایک منظم اور متحرک سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں روس نے ایشیا، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے، جس نے مغربی طاقتوں کی روس کو تنہا کرنے کی کوششوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔

صدر پوتن کا مئی 2026 میں بیجنگ کا 25واں دورہ روس اور چین کے تعلقات میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے 40 سے زیادہ معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں توانائی، صنعت، نیوکلیئر تعاون، مالیات، ڈیجیٹل اکانومی اور زراعت کے شعبے شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے 2001 کے دوستی معاہدے کی تجدید کی اور “ملٹی پولر ورلڈ آرڈر” کے قیام کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔

روسی صدر پوتن کے اس دورے کے بارے میں چینی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دوطرفہ تعلقات میں “زیادہ اعتماد، گہرے تعاون اور اسٹریٹجک ہم آہنگی” کا آغاز ہے۔ چین اور روس کی دو طرفہ تجارت 2025 میں 240 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، اور دونوں ممالک اب مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دے رہے ہیں، جس سے ڈالر پر انحصار کم ہو رہا ہے۔

روسی دفتر خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے واضح کیا کہ الاسکا سربراہی اجلاس میں صدر پوتن کو امریکا میں سرخ قالین پر استقبال کیا گیا، جس نے روس کی تنہائی کے بارے میں مغربی دعووں کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ امریکا کے ساتھ اس ملاقات نے روس کو عالمی سطح پر سفارتی طور پر بحال کر دیا، اور **صدر پوتن** نے امریکا کے ساتھ تجارت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق جیسے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی بات کی۔

یہ کامیابی صرف امریکا تک محدود نہیں ہے۔ روس نے ہندوستان، جنوب مشرقی ایشیائی ممالک، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو فروغ دیا ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026 میں 130 سے زائد ممالک کے مندوبین نے شرکت کی، جس نے مغربی پابندیوں کے باوجود روس کی بین الاقوامی کشش کو ظاہر کیا۔

چین اور روس کا تعاون اب صرف دو طرفہ معاہدوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کی جانب ایک اسٹریٹجک اقدام ہے۔ دونوں ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس میں ہم آہنگی کو فروغ دے رہے ہیں، اور ایک ایسے “ملٹی پولر ورلڈ آرڈر” کی وکالت کر رہے ہیں جو مغربی تسلط سے پاک ہو۔

روسی صدر نے اسٹریٹجک پارٹنرز کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، اور کہا ہے کہ روس “تمام شراکت داروں کے ساتھ کھلے اور باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات” میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مغربی ممالک کی جانب سے بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کرنے اور اپنی مرضی مسلط کرنے کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔