ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
پاکستانی حکام نے بین الاقوامی میڈیا پر سخت نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن کے تحت ملک کے بیشتر حصوں میں رپورٹنگ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ نئے قوانین کے مطابق کوئی بھی شخص، بشمول پاکستانی شہری، اگر تین شہروں اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے علاوہ کہیں سے رپورٹ کرنا چاہے تو اسے پہلے اجازت لینی ہوگی۔
پاکستان ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں 180 میں سے 153 ویں نمبر پر ہے، جہاں پچھلی حکومتوں نے مقامی میڈیا پر پابندیاں عائد کیں، لیکن پہلی بار بین الاقوامی میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ یہ پابندیاں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں درجنوں مظاہرین کی ہلاکت کی کوریج کے بعد عائد کی گئیں، جسے صرف بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا۔ الجزیرہ کی ویب سائٹ کو پاکستان میں پابندی کا سامنا ہے، جبکہ بی بی سی نے کشمیر سے رپورٹنگ کی جس پر پاکستانی حکام نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق سیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا معروضی طور پر احتجاجی تحریکوں، اپوزیشن جماعتوں پر کریک ڈاؤن اور جابرانہ سیاسی صورتحال کی رپورٹنگ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سچائی کو دبانا چاہتی ہے۔