ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
انٹرنیٹ کاروباری شخصیت کم ڈاٹ کام نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت بالآخر لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں بے مثال معلومات حاصل کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ذاتی معلومات کی بڑی مقدار کو یکجا کر سکتی ہے، جس سے اے آئی سسٹمز افراد کی انتہائی تفصیلی پروفائلز بنا سکتے ہیں۔
ڈاٹ کام کے مطابق یہ ٹیکنالوجی امریکی نگرانی کی رسائی کو ڈرامائی طور پر بڑھا سکتی ہے۔ میگا اپ لوڈ فائل شیئرنگ سروس کے بانی نے ٹکر کارلسن کو انٹرویو میں کہا کہ اے آئی خطرناک ہے کیونکہ اسے امریکی ڈیٹا بیس تک رسائی مل جائے گی، جس سے اے آئی ہر شخص کے بارے میں سب کچھ جان لے گی۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسے روکنے کا کوئی طریقہ ہے تو انہوں نے کہا کہ اے آئی نہ ہو، انٹرنیٹ نہ ہو، یہی واحد راستہ ہے۔ ڈاٹ کام نے کہا کہ امریکی حکومت بڑے پیمانے پر نگرانی کے پروگرام چلاتی ہے جو فون کالز، ویڈیو کالز اور دیگر آن لائن سرگرمیاں کیپچر کر سکتی ہے، اور یہ معلومات لوگوں کی پروفائلز بنا کر انتخابات اور جنگوں کی حمایت کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا روزانہ 10 پیٹا بائٹ ڈیٹا جمع کر رہا ہے، جس میں تمام مواصلات شامل ہیں، اور کہا کہ چین اے آئی میں امریکا سے بہت پیچھے نہیں ہے۔