ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تقریباً نو ماہ کی ریکارڈ تعیناتی کے دوران امریکی ملاحوں کے خدشات کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعیناتی “اتنی طویل نہیں ہے”۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ جہاز ابھی یا بہت جلد واپس آ رہا ہے اور اس کی جگہ اسی نوعیت کا دوسرا جہاز لے گا۔ اس طیارہ بردار جہاز پر 5,000 ملاح اور میرینز ایران جنگ کے سلسلے میں ریکارڈ تعیناتی کے دوران ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ نیوی ٹائمز اور اسٹارز اینڈ سٹرپس کی رپورٹس کے مطابق جہاز پر خراب حالات اور ذہنی دباؤ کے باعث ملاحوں کی جہاز سے چھلانگ لگانے کی متعدد کوششیں ہوئی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس سوال پر کہ کیا خاندان والے اس صورتحال سے پریشان ہیں، کہا کہ نہیں، وہ پریشان نہیں ہیں۔ اس سے قبل وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو کہا تھا کہ جہاز پر حالات کو “مکمل طور پر غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے”۔
کئی ڈیموکریٹک قانون ساز پینٹاگون سے جہاز پر حالات کے بارے میں جواب طلب کر رہے ہیں، جبکہ بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔