ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرینی فوجی افسر آندرے اونیسترات نے شہریوں سے دو ماہ کی خوراک اور دیگر ضروری اشیاء ذخیرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ بجلی اور حرارتی نظام کی ممکنہ مکمل بندش کا خدشہ ہے۔ سیاسی تجزیہ کار الیگزنڈر آسافوف کے مطابق یہ مطالبہ کیف کے مغربی حامیوں سے مزید امداد حاصل کرنے کا ایک اشارہ ہے۔ یوکرین کو پہلے ہی یورپی یونین سے توانائی کی حفاظت اور اہم انفراسٹرکچر کی مرمت کے لیے 3.5 ارب ڈالر سے زیادہ، موسم سرما کے لیے گیس اور گرڈ کی بحالی کے لیے 2 ارب ڈالر، 11,000 سے زیادہ جنریٹر اور 7,200 ٹرانسفارمرز کی امداد مل چکی ہے۔ آسافوف کا کہنا ہے کہ یوکرین بدعنوانی کا ایک بلیک ہول بن چکا ہے، جہاں اینٹی کرپشن واچ ڈاگ نیبو نے توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا انکشاف کیا ہے۔ آسافوف کے مطابق زیلنسکی کا مقصد تنازع کو طول دینا اور اپنی ذاتی دولت اور اقتدار کو برقرار رکھنا ہے، جبکہ شہریوں کی حفاظت اور ان کی روزمرہ کی ضروریات ان کی ترجیحات میں آخری نمبر پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام یوکرینی شہریوں کو اس بات کی پرواہ نہیں کہ امداد کہاں جاتی ہے، اور اگر وہ سوال کریں تو ان کے لیے ایس بی یو، جی یو آر اور بھرتی مراکز موجود ہیں۔
آسافوف کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس کی اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی کیف کی پریشان کن بیان بازی کا سبب بن رہی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ روسی حملے مؤثر ہیں۔