بھارت میں چینی کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

sugar sugar

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

بھارت میں چینی کی خوردنی قیمتیں تہواروں کے موسم سے قبل ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کے بعد حکومت نے مارکیٹ میں رسد بڑھانے اور قیمتوں کو قابو کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ صارفین کے امور کے محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق 18 اگست کو ملک بھر میں اوسط خوردنی قیمت 52.30 روپے فی کلوگرام ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے ۔ کولہاپور جیسی تھوک منڈیوں میں قیمتیں اگست کے آغاز سے 20 فیصد تک بڑھ چکی ہیں ۔

اس قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ گنے کا ایتھنول کی تیاری میں استعمال ہے۔ حکومت کی E20 پٹرول پالیسی کے تحت گنے کو ایتھنول کی تیاری میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے چینی کی تیاری کے لیے دستیاب گنے کی مقدار کم ہو گئی ہے اور سپلائی میں کمی آئی ہے ۔ ماہرین کے مطابق حکومت کی ایندھن کی درآمدات کم کرنے کی پالیسی اب ایک اہم خوردنی شے کی قیمت پر دباؤ ڈال رہی ہے ۔

صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے چینی کی درآمدات پر 100 فیصد ڈیوٹی ختم کرتے ہوئے 10 لاکھ ٹن چینی کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے دی ہے ۔ اس کے علاوہ بڑے صارفین کو ستمبر سے نومبر تک 15 دن سے زیادہ چینی ذخیرہ کرنے کی پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی کو روکا جا سکے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اگر یہ اقدامات کارگر ثابت نہ ہوئے تو مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں ۔