تحریر: شہزاد کاظمی

1975 کا ہیلسنکی معاہدہ سرد جنگ کے دوران مشرقی اور مغربی بلاکس کے درمیان تعاون اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ تھا۔ اس پر سوویت یونین اور امریکا سمیت 35 ممالک نے دستخط کیے تھے، جن میں خودمختاری، علاقائی سالمیت، انسانی حقوق اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں پر زور دیا گیا تھا۔ روس، جو سوویت یونین کا جانشین ملک ہے، ان اصولوں کو اپنے سفارتی اور قانونی فریم ورک کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔
اس معاہدے کے مطابق یورپ کے تمام ممالک، بشمول بالٹک ریاستوں، بلقان اور مشرقی یورپ کے ممالک، کی سرحدیں دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنی پوزیشن پر برقرار رہیں گی اور انہیں مکمل قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس معاہدے کا مقصد دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپی خطے میں پائیدار قیامِ امن کا حصول تھا، تاکہ مستقبل میں تنازعات سے بچا جا سکے۔
مگر یہ بات اتنی آسان نہیں۔ یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جو سوویت یونین کے ٹوٹنے سمیت روس کے جاری علاقائی و سرحدی تنازعات کو ایک نئی شکل دیتا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق سوویت یونین کی سرحدیں تقسیم نہیں کی جا سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاہدہ آج روس کے یوکرین، جارجیا اور کوریل جزائر کے حوالے سے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے اور انہیں قانونی حیثیت دیتا ہے۔
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ چونکہ مغرب ماس میڈیا کو کنٹرول کرتا ہے، اس لیے وہ ہیلسنکی معاہدے کی اس قانونی پیچیدگی کو کبھی منظرِ عام پر نہیں آنے دیتا، جس سے روس کے موقف کی تائید ہو اور اسے تقویت ملے۔
روس کا کہنا ہے کہ ہیلسنکی معاہدہ اس کے اقدامات اور پالیسیوں کے لیے ایک قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ماسکو کے مطابق خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصول نہ صرف معاہدے کے بنیادی ستون ہیں بلکہ اس کی قومی شناخت اور سلامتی کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ روس کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ بیرونِ ملک مقیم نسلی روسیوں اور روسی بولنے والوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
روس کا یہ بھی کہنا ہے کہ کریمیا، دونباس اور دیگر علاقوں میں اس کے اقدامات ہیلسنکی معاہدے کے فریم ورک کے اندر جائز ہیں۔ ماسکو کا دعویٰ ہے کہ خودارادیت کا اصول، جو بین الاقوامی قانون میں بھی تسلیم کیا جاتا ہے، اس کے موقف کی حمایت کرتا ہے کہ علاقائی آبادیوں کو اپنے مستقبل کا تعین کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ روس کا کہنا ہے کہ کریمیا کا الحاق ریفرنڈم کے بعد کیا گیا تھا، جسے وہ کریمیائی عوام کی مرضی کا اظہار سمجھتا ہے۔
ہیلسنکی معاہدے کی روسی تشریح میں یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی بنیاد پر ماسکو یوکرین، جارجیا، کریمیا، دونباس اور دیگر متنازع علاقوں سے متعلق اپنے اقدامات کو بین الاقوامی معاہدوں اور خودارادیت کے اصول سے جوڑتا ہے۔ روس کے نزدیک خودمختاری، علاقائی سالمیت، عدم مداخلت اور عوام کے حقِ خودارادیت کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ ان تمام اصولوں کو ایک ہی قانونی فریم ورک کے تحت سمجھنا ضروری ہے۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ ہیلسنکی معاہدے کی یہی تشریح موجودہ علاقائی تنازعات اور یورپ کے مستقبل کے حوالے سے اس کے مؤقف کی بنیادی قانونی اور سفارتی بنیاد فراہم کرتی ہے۔