ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
روبوٹک پیزا میکرز کا کاروبار بہت سے وعدوں کے باوجود ناکامی کا شکار ہوا ہے۔ سیئٹل میں موٹو پیزا کے مالک لی کنڈیل نے $160,000 کے دو روبوٹ خریدے، لیکن ان کی سپلائر کمپنی پکنک کے بند ہونے کے بعد یہ مشینیں بیکار ہو گئیں۔ پکنک کے علاوہ زوم، پازی اور باسل سٹریٹ جیسی کمپنیاں بھی ناکام ہو چکی ہیں، جنہوں نے پیزا بنانے کے لیے روبوٹک ٹیکنالوجی استعمال کی۔ بینک آف امریکہ کی سینئر تجزیہ کار سارہ سیناٹور کے مطابق پیزا بنانے والے روبوٹ کچھ معاملات میں اناڑی ہیں اور اجزاء کو غلط جگہ پر ڈال دیتے ہیں، جبکہ انسان پیزا بنانے میں بہت زیادہ موثر ہیں۔ کنڈیل کا کہنا ہے کہ ناکام کمپنیوں کے باوجود وہ روبوٹک پیزا میں یقین رکھتے ہیں اور خود ایک نیا روبوٹ بنا رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہو جائے گی۔
کینیڈا کی کمپنی ایپٹرونکس کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک منٹ میں ایک پیزا بنانے والے روبوٹ پر کام کر رہی ہے، جبکہ دوسری کمپنیاں پیزا کاٹنے کے لیے لیزر اور الٹراساؤنڈ جیسی ٹیکنالوجیز استعمال کر رہی ہیں۔