ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت، جو دنیا کا سب سے بڑا چینی صارف ہے، اس سال تہواروں کے موسم میں چینی کی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ گزشتہ دو مہینوں میں چینی کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد حکومت نے ایک دہائی بعد پہلی بار 10 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قلت کی بڑی وجہ گنے کی پیداوار میں کمی ہے، جس کی وجہ ایل نینو کے باعث کم بارش، ذخیرہ اندوزی اور عالمی سپلائی میں کمی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے اپنی پیداوار کا اندازہ زیادہ لگایا اور اسے پوری طرح واضح ہونے سے پہلے ہی چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی۔ حکومت نے ابتدائی طور پر 15 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی منظوری دی تھی، جبکہ بعد میں مزید 5 لاکھ ٹن کا اضافہ کیا گیا۔ مئی میں برآمدات روکنے سے پہلے تقریباً 8 لاکھ ٹن چینی برآمد ہو چکی تھی۔
بھارت میں چینی کی کھپت گزشتہ سیزن میں 28 ملین ٹن سے زیادہ تھی، جو اس سال متوقع پیداوار سے زیادہ نہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 3 ملین ٹن گنا ایتھنول کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلا سیزن بھی بہترین نہیں ہوگا کیونکہ گنا پانی کی زیادہ مقدار استعمال کرتا ہے اور مون سون کی غیر یقینی بارشوں اور خشک سالی نے پیداوار کو متاثر کیا ہے۔