پاکستانی سربراہِ حکومت عالمی فورمز پر پوتن کے ساتھ کیوں کھڑے ہوتے ہیں؟
تصویر، پروٹوکول اور پاکستان–روس تعلقات کی زمینی حقیقت

اشتیاق ہمدانی
اسے پاکستانی میڈیا کی بے خبری کہا جائے، نالائقی، دانستہ غفلت، ضرورت سے زیادہ ہوشیاری یا پھر محض ’’یلو جرنلزم‘‘—فیصلہ قارئین خود کرلیں۔
عالمی سربراہی اجلاسوں میں شریک رہنماؤں کی ایک مشترکہ تصویر، جسے سفارتی زبان میں ’’فیملی فوٹو‘‘ کہا جاتا ہے، تقریباً ہر بڑے فورم کا مستقل حصہ ہوتی ہے۔ میزبان ملک پہلے سے طے شدہ پروٹوکول کے مطابق سربراہانِ مملکت و حکومت کے کھڑے ہونے کی جگہیں مقرر کرتا ہے۔ کہیں ممالک کے ناموں کی حروفِ تہجی کے مطابق ترتیب بنائی جاتی ہے، کہیں عہدہ، سینیارٹی، رکنیت کی نوعیت اور میزبان ملک کی سفارتی ترجیحات کو سامنے رکھا جاتا ہے۔
لہٰذا کسی دو رہنماؤں کا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا لازماً گہری دوستی، خصوصی تعلق یا کسی بڑے سفارتی بریک تھرو کا ثبوت نہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے ہاں ایک تصویر آتی ہے، اس پر سرخی لگتی ہے: ’’صدر پوتن اور پاکستانی وزیراعظم ایک ساتھ۔‘‘ پھر اسی تصویر سے پاکستان–روس تعلقات میں انقلاب، پوتن کی پاکستان سے محبت، ذاتی دوستی اور نہ جانے کتنی سفارتی کامیابیاں کشید کرلی جاتی ہیں۔ تصویر سرکاری میڈیا سے سوشل میڈیا تک پہنچتے پہنچتے ایسی داستان بن جاتی ہے جیسے ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان تمام سیاسی، اقتصادی، تعلیمی اور سفری رکاوٹیں ختم ہوگئی ہوں۔
میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان اور صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان نمایاں ذاتی رابطے کا آغاز 13 اور 14 جون 2019ء کو بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے انیسویں سربراہی اجلاس کے دوران ہوا۔
14 جون 2019ء کے گروپ فوٹو سیشن میں عمران خان اور صدر پوتن ساتھ کھڑے تھے۔ عمران خان نے مسکراتے ہوئے انہیں ’’مسٹر پوتن‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ پوتن نے بھی اس بے تکلف انداز کا مثبت جواب دیا۔ دونوں رہنما تصویر بنوانے کے بعد بھی گفتگو کرتے رہے اور بعد میں ظہرانے کے دوران بھی انہیں ایک دوسرے سے بات کرتے دیکھا گیا۔
یہ محض ایک تصویر نہیں رہی تھی۔ عمران خان نے ایک رسمی موقع کو ذاتی رابطے میں تبدیل کردیا۔ یہی کسی عالمی فورم کی اصل سفارتی افادیت ہوتی ہے: چند لمحوں کو گفتگو، تعلق اور بعد میں عملی رابطے میں ڈھال دینا۔
بالآخر صدر پوتن کی دعوت پر عمران خان نے 23 اور 24 فروری 2022ء کو ماسکو کا دورہ کیا اور 24 فروری کو کریملن میں صدر پوتن سے ملاقات کی۔ یہ کسی پاکستانی سربراہِ حکومت کا تقریباً دو دہائیوں بعد روس کا اہم دورہ تھا۔ اس وقت روس اور یوکرین کا بحران انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہوچکا تھا، اس کے باوجود ملاقات ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، توانائی، علاقائی حالات اور افغانستان سمیت متعدد موضوعات پر گفتگو کی۔ اختلاف اپنی جگہ، مگر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ عمران خان نے 2019ء کے ایک مختصر فوٹو سیشن کو آگے چل کر باقاعدہ سیاسی رابطے میں بدل دیا۔
اب 31 اگست اور یکم ستمبر 2026ء کو بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 26ویں سربراہی اجلاس کی تصویر سامنے آئی ہے۔ اس میں بھی وزیراعظم شہباز شریف صدر پوتن کے قریب کھڑے دکھائی دیے۔
حقیقت یہ ہے کہ سربراہان کے کھڑے ہونے کی جگہیں ذاتی پسند سے نہیں بلکہ میزبان کے طے کردہ پروٹوکول کے تحت مقرر ہوتی ہیں۔ پاکستان اور روس کے نام حروفِ تہجی میں قریب ہونے کی وجہ سے کئی عالمی فورمز پر دونوں ممالک کے رہنما ایک دوسرے کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ہر اجلاس میں صرف یہی اصول لاگو نہیں ہوتا؛ میزبان ملک، مرکزی مہمان، رکنیت، عہدے اور سفارتی ترجیحات بھی ترتیب پر اثرانداز ہوتی ہیں۔
اس لیے صدر پوتن کا پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ کھڑا ہونا نہ کسی مجبوری کا نتیجہ ہے اور نہ لازماً غیرمعمولی خوشی، ذاتی قربت یا خصوصی دوستی کا اظہار—یہ بنیادی طور پر ایک طے شدہ پروٹوکول پوزیشن ہوتی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ پاکستانی وزیراعظم ان چند لمحوں کو کتنی مؤثر، باوقار اور نتیجہ خیز گفتگو میں تبدیل کرتے ہیں۔
فوٹو سیشن کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے صدر پوتن کو چھو کر ان کی توجہ حاصل کرنے اور قربت ظاہر کرنے کی کوشش کی، لیکن روسی اور عمومی یورپی سفارتی آداب میں کسی عالمی رہنما کو اس طرح اچانک چھونا یا ہاتھ پکڑ کر روکنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ صدر پوتن نے بھی اس غیرمتوقع صورتِ حال پر کوئی خاص ردِعمل دینے کے بجائے اسے نظرانداز کرنا مناسب سمجھا۔ یہاں عمران خان اور شہباز شریف کے انداز کا فرق نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ عمران خان نے 2019ء میں گفتگو کا ایک قدرتی موقع پیدا کیا، جبکہ بشکیک کے تازہ منظر میں شہباز شریف کی کوشش عجلت اور بے ساختہ پن کا شکار نظر آئی۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان اب حکومتی، پارلیمانی، دفاعی، سفارتی اور تجارتی سطح پر پہلے سے زیادہ گفتگو ہورہی ہے۔ دونوں ممالک شنگھائی تعاون تنظیم سمیت کئی پلیٹ فارمز پر رابطے میں ہیں۔ توانائی، تجارت، زراعت، تعلیم، دفاع، انسدادِ دہشت گردی، ریل اور فضائی رابطوں پر اجلاس ہوتے ہیں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے جاتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ عام پاکستانی، طالب علم اور کاروباری شخص کو ان تعلقات کا کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے؟
پاکستان اور روس کی باہمی تجارت نے کچھ عرصے کے لیے نمایاں اضافہ ضرور دکھایا۔ مالی سال 2023–24 میں تجارتی حجم تقریباً 1.8 ارب ڈالر تک پہنچا، جس کی بڑی وجہ پاکستان کی جانب سے روسی خام تیل کی خریداری تھی۔ لیکن اگلے عرصے میں یہ حجم دوبارہ نمایاں طور پر کم ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تجارت ابھی مستقل اور متنوع بنیادوں پر استوار نہیں ہوسکی۔ صرف خام تیل، گندم یا چند محدود مصنوعات کی خریدوفروخت کو مکمل اقتصادی شراکت داری نہیں کہا جاسکتا۔ پاکستان کو روسی منڈی میں اپنے چاول، ٹیکسٹائل، کھیلوں کے سامان، سرجیکل آلات، چمڑے، پھلوں اور آئی ٹی خدمات کے لیے مستقل رسائی چاہیے۔
دونوں ممالک ہر اجلاس میں تجارت بڑھانے کی بات کرتے ہیں، لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ روسی کاروباری افراد کی بڑی تعداد پاکستان جانے میں دلچسپی نہیں رکھتی، جبکہ پاکستانی تاجروں کے لیے روسی کاروباری ویزے کا حصول انتہائی مشکل بن چکا ہے۔ روسی سفارت خانے کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق کاروباری اور تعلیمی ویزے متعلقہ روسی حکام کی منظور شدہ دعوت پر جاری ہوسکتے ہیں۔ قانونی طور پر یہ ویزے مکمل بند نہیں، لیکن ستمبر 2025ء سے پاکستانی درخواست گزاروں کے لیے دعوت ناموں، امیگریشن منظوریوں اور ویزا اجرا میں غیرمعمولی رکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں۔ نتیجہ تقریباً وہی ہے: پاکستانی تاجر روس میں نمائشوں اور کاروباری اجلاسوں تک نہیں پہنچ رہے اور طلبہ داخلے کی ابتدائی پیشکش ملنے کے باوجود امیگریشن دعوت نامے یا ویزے کے مرحلے پر پھنس جاتے ہیں۔
روس میں یکم ستمبر 2026ء کو نیا تعلیمی سال شروع ہوچکا ہے، لیکن گزشتہ تعلیمی سال کی طرح اس سال بھی پاکستانی طلبہ روسی تعلیمی اداروں کے دروازے عملی طور پر اپنے لیے بند ہیں۔ چند مخصوص سرکاری اسکالرشپس کو چھوڑ کر روسی جامعات میں پاکستانی طلبہ کے عام داخلوں، امیگریشن دعوت ناموں اور تعلیمی ویزوں کا کوئی قابلِ اعتماد اور شفاف نظام دکھائی نہیں دیتا۔
پاکستانی طلبہ کی مشکلات روسی ویزے تک بھی محدود نہیں۔ اگر کسی طالب علم کو طویل جدوجہد کے بعد داخلہ، امیگریشن دعوت نامہ اور ویزا مل بھی جائے تو پاکستان کے ایئرپورٹ پر اسے ایک نئے امتحان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طلبہ سمیت جائز ویزا رکھنے والے مسافروں کو ’’پروفائلنگ‘‘ کے نام پر گھنٹوں پوچھ گچھ، غیرضروری تضحیک اور بعض صورتوں میں واضح تحریری وجہ بتائے بغیر آف لوڈ کیے جانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
انسانی اسمگلنگ روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور جعلی ویزے یا دستاویزات رکھنے والوں کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے، لیکن مستند یونیورسٹی کا داخلہ، درست دعوت نامہ، قانونی ویزا اور تصدیق شدہ ٹکٹ رکھنے والے طالب علم کو مجرم سمجھ کر روکنا اپنے نوجوانوں کے تعلیمی مستقبل میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ یوں پاکستانی طالب علم دونوں طرف سے مشکلات میں پھنسا ہوا ہے۔ روسی ادارے اسے دعوت نامہ یا ویزا دینے سے گریز کرتے ہیں اور اگر وہ تمام مراحل مکمل کر بھی لے تو پاکستان کے ایئرپورٹ پر اس سے ایسا سلوک ہوتا ہے جیسے اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جانا کوئی جرم ہو۔
یہ صورت حال دونوں ملکوں کے تعلقات کے سرکاری دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جب آپ ایک ملک کے ساتھ بے پناہ دوستی کا اظہار کریں، ہر ملاقات کو تاریخی پیش رفت اور ہر تصویر کو غیرمعمولی قربت قرار دیں، لیکن وہی دوست آپ کے تاجروں اور طالب علموں کے لیے اپنے گھر کے دروازے بند رکھے تو ایسی دوستی اور شراکت داری کا کیا مطلب لیا جائے؟
دوستی صرف سربراہی ملاقاتوں، گرم جوش مصافحوں اور مشترکہ اعلامیوں کا نام نہیں۔ حقیقی دوستی وہ ہوتی ہے جس میں دونوں ملکوں کے شہری، طلبہ، تاجر، محقق اور سیاح بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ اگر حکمرانوں کے لیے سرخ قالین موجود ہو مگر عام شہری کے لیے ویزا کاؤنٹر عملاً بند ہو تو اسے عوامی تعلق نہیں بلکہ حکمرانوں اور سرکاری وفود کا محدود رابطہ کہا جائے گا۔
یہ تاثر بھی دیا گیا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے روس کے ساتھ کوئی ایسا ’’ویزا معاہدہ‘‘ کرلیا ہے جس کے بعد رکاوٹیں ختم ہوجائیں گی۔ 6 جون 2026ء کو بشکیک میں محسن نقوی اور روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف نے غیرقانونی امیگریشن روکنے، شہریوں کی واپسی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ یہ عام تاجروں اور طلبہ کے لیے ویزا سہولت یا ویزا فری نظام کا معاہدہ نہیں تھا۔ دونوں حکومتوں کو ایک الگ اور قابلِ عمل ویزا سہولت کاری معاہدے کی ضرورت ہے، جس میں کاروباری وفود، طلبہ، سیاحوں اور صحافیوں کی درخواستوں پر مقررہ مدت کے اندر فیصلہ کرنے کی ضمانت ہو۔
لاجسٹکس پاکستان–روس تجارت کی راہ میں ایک اور بڑی رکاوٹ ہے۔ براہِ راست پرواز کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان مال بردار ٹرین چلانے کے بھی متعدد اعلانات ہوئے، مگر ہر مرتبہ نئی تاریخ آئی اور گزر گئی۔
دسمبر 2024ء سے اس منصوبے کے اعلانات شروع ہوگئے تھے۔ پھر کہا گیا کہ پاکستان–روس مال بردار ٹرین کا آزمائشی سفر 15 مارچ 2025ء کو شروع ہوگا۔ مارچ گزر گیا تو روسی نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک نے 27 مارچ کو بتایا کہ سروس اپریل میں شروع کردی جائے گی۔ اپریل بھی گزر گیا اور ٹرین نہ چلی۔ اس کے بعد پاکستان کے وزیر ریلوے نے 22 جون 2025ء کی نئی تاریخ دے دی۔
بتایا گیا کہ لاہور سے روانہ ہونے والی ٹرین ایران، ترکمانستان اور قازقستان سے گزرتی ہوئی روس کے شہر استراخان پہنچے گی۔ تقریباً آٹھ ہزار کلومیٹر طویل اس سفر کے لیے 20 سے 25 دن کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ جون 2025ء میں ایران کے گرد پیدا ہونے والی جنگی صورت حال کے بعد 22 جون کا آزمائشی سفر غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ موجودہ حالات میں مستقبل قریب میں بھی اس روٹ پر ٹرین چلتی دکھائی نہیں دیتی۔
ایران کی جنگ اب ایک بڑی اور حقیقی رکاوٹ ہے، لیکن 15 مارچ اور اپریل 2025ء کی تاریخیں تو اس جنگی صورت حال سے پہلے گزر چکی تھیں۔ ان تاریخوں پر ٹرین کیوں نہیں چلی؟ اگر کم از کم ایک یا دو آزمائشی مال بردار ٹرینیں چل گئی ہوتیں اور بعد میں جنگ کے باعث سروس معطل ہوتی تو یہ مؤقف قابلِ فہم تھا کہ ایک فعال تجارتی راستہ جنگ نے بند کردیا۔ لیکن جو ٹرین امن کے دنوں میں پٹری پر نہ آسکی، اس کی ناکامی کا پورا بوجھ بعد میں پیدا ہونے والی جنگی صورت حال پر نہیں ڈالا جاسکتا۔
یہ منصوبہ محض ایک علامتی ٹرین نہیں تھا۔ اس روٹ کے فعال ہونے سے پاکستانی ٹیکسٹائل، چاول، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات، چمڑا، پھل اور دیگر مصنوعات نسبتاً کم وقت میں روس اور وسطی ایشیا پہنچ سکتی تھیں۔ اسی طرح روس سے گندم، کھاد، پیٹرولیم مصنوعات اور صنعتی سامان پاکستان لایا جاسکتا تھا۔ لیکن اعلانات کے باوجود کرایوں، کسٹمز، انشورنس، بینکاری، مختلف ریلوے گیج اور ایران میں سامان کی منتقلی جیسے بنیادی معاملات وقت پر حل نہیں کیے گئے۔
یہ مسئلہ اس لیے بھی سنگین ہوچکا ہے کہ اکتوبر 2025ء سے افغانستان کے ساتھ زمینی تجارتی راستوں کی طویل بندش نے افغانستان اور وسطی ایشیا تک پاکستانی برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے۔ طورخم اور چمن کی بندش کے باعث پاکستان–افغانستان تجارت تقریباً مفلوج ہوچکی ہے۔ تاجروں کے مطابق گزشتہ دس ماہ کے دوران پاکستان کو افغان منڈی میں تقریباً ایک ارب ڈالر کی ممکنہ برآمدات کا نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ افغانستان کے راستے وسطی ایشیا جانے والی تجارت بھی شدید متاثر ہوئی۔ اس صورت حال نے دونوں جانب کے تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور سرحدی علاقوں سے وابستہ افراد کو نقصان پہنچایا۔
افغانستان کا راستہ بند، ایران کا راستہ جنگ کی زد میں، روس تک مال بردار ٹرین صرف اعلانات میں اور براہِ راست فضائی رابطہ بھی موجود نہیں—ایسی صورت حال میں پاکستانی تاجر اپنی مصنوعات روس اور وسطی ایشیا کیسے پہنچائے؟
گزشتہ دنوں روس سے پاکستان کے لیے متبادل تجارتی کاریڈور، بالخصوص چین کے راستے سامان پہنچانے کے امکان پر میری متعدد پاکستانی تاجروں سے بات ہوئی۔ تقریباً سب کی شکایت ایک ہی تھی: یہ راستہ طویل اور اتنا مہنگا ہے کہ پاکستانی مصنوعات روس پہنچتے پہنچتے اپنی مسابقت کھو دیتی ہیں۔ نقل و حمل، کنٹینر، ٹرانزٹ، کسٹمز، انشورنس اور گوداموں کے اخراجات شامل ہونے کے بعد پاکستانی سامان روسی منڈی میں موجود متبادل مصنوعات سے مہنگا ہوجاتا ہے۔ خریدار کی قوتِ خرید محدود ہے اور پاکستانی تاجر کے لیے منافع کی گنجائش تقریباً ختم ہوجاتی ہے۔
تعلقات کا اندازہ صرف تجارتی معاہدوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ ایک کنٹینر کتنی لاگت اور کتنے دن میں اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔ اگر پاکستانی مصنوعات روس پہنچ کر ناقابلِ فروخت ہوجائیں تو اربوں ڈالر کی تجارت کے اہداف محض سرکاری تقریروں میں ہی اچھے لگتے ہیں۔
فضائی رابطے کی صورت حال بھی مختلف نہیں۔ پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری 29 اور 30 جنوری 2023ء کو ماسکو آئے تھے۔ 30 جنوری کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں میں نے پاکستان اور روس کے درمیان براہِ راست فضائی رابطے کے متعلق سوال کیا تھا۔
میرے سوال کے جواب میں روسی وزیر خارجہ نے جواب دیا کہ دونوں ممالک کی ایوی ایشن اتھارٹیز براہِ راست پروازوں کے امکان پر بات کررہی ہیں اور اس منصوبے کا تجارتی طور پر قابلِ عمل ہونا بھی اہم ہوگا۔ اس جواب کے بعد پاکستانی حلقوں میں جلد فضائی رابطہ بحال ہونے کا بھرپور تاثر دیا گیا، مگر عملی پیش رفت سامنے نہ آسکی۔
پھر کئی ماہ تک خبر چلتی رہی کہ فلائی جناح 27 جولائی 2026ء سے اسلام آباد–ماسکو پرواز شروع کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق ایئرلائن نے ماسکو کے دومودیدوو ایئرپورٹ پر سلاٹ اور ریگولیٹری منظوری کے لیے درخواست دی تھی، لیکن 27 جولائی گزر گئی اور پرواز شروع نہ ہوسکی۔ 2 ستمبر 2026ء تک پاکستان اور روس کے درمیان کوئی باقاعدہ نان اسٹاپ مسافر پرواز دستیاب نہیں۔ یہ ناکامی صرف ایک فضائی روٹ کی نہیں بلکہ سرکاری منصوبہ بندی اور فالو اَپ کی بھی ہے۔
فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر صدر پوتن کے ساتھ کھڑے ہوکر جتنی مرضی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کرلی جائیں، ان سے چند گھنٹوں کا تاثر تو بنایا جاسکتا ہے، دوطرفہ تعلقات نہیں۔
اگر حکومت واقعی پاکستان–روس تعلقات کو تاریخی اور مثالی قرار دیتی ہے تو عوام کو واضح اہداف اور تاریخیں دے۔ کاروباری ویزوں کا اجرا معمول پر کب آئے گا؟ روسی جامعات پاکستانی طلبہ کو امیگریشن دعوت نامے کب جاری کریں گی؟ پاکستانی ایئرپورٹوں پر جائز دستاویزات رکھنے والے طلبہ اور مسافروں کے حقوق کا تحفظ کیسے ہوگا؟ پاکستان سے ماسکو کی براہِ راست پرواز کب شروع ہوگی؟ مال بردار ٹرین کب پٹری پر آئے گی؟ متبادل تجارتی راستہ کون سا ہوگا؟ پاکستانی برآمدات کا حصہ کتنا بڑھایا جائے گا؟ اور بینکاری و ادائیگی کا قابلِ اعتماد نظام کب قائم ہوگا؟
ہر سرکاری اعلان کے ساتھ ڈیڈ لائن، ذمہ دار ادارہ اور پیش رفت رپورٹ بھی جاری ہونی چاہیے۔ جو منصوبہ مقررہ تاریخ تک مکمل نہ ہو، اس کی وجہ عوام کے سامنے رکھی جائے۔
صدر پوتن کے ساتھ کھڑے ہونے کی جگہ میزبان کا پروٹوکول دے سکتا ہے، مگر روس کے ساتھ مضبوط تعلقات کی جگہ پاکستان کو اپنی سنجیدہ پالیسی، مسلسل محنت اور قابلِ پیمائش نتائج سے خود بنانی ہوگی۔ سفارت کاری کا اصل معیار یہ نہیں کہ تصویر میں پاکستانی وزیراعظم کس کے ساتھ کھڑے تھے۔ اصل معیار یہ ہے کہ تصویر کے بعد پاکستانی تاجر کا کنٹینر اور پاکستانی طالب علم اپنی منزل تک پہنچا یا نہیں، ٹرین چلی یا نہیں، جہاز اڑا یا نہیں اور عام پاکستانی کو ان تعلقات سے کیا فائدہ ہوا۔
تصویر میں قربت چند سیکنڈ کی ہوتی ہے، تعلقات کی سچائی زمین پر دکھائی دیتی ہے۔