ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمن وزیر خارجہ جوہان واڈیفل نے یوکرین پر تنقید کی ہے کہ وہ مغربی امداد کا کافی حصہ جرمن ہتھیاروں پر خرچ نہیں کر رہا، اور کہا کہ یوکرین کو جرمنی کی بھاری امداد سے کم از کم اس کی دفاعی صنعت کو فائدہ پہنچنا چاہیے۔ جرمنی یوکرین کے سب سے بڑے دو طرفہ حامیوں میں سے ایک ہے، جس نے 2022 میں تنازع بڑھنے کے بعد 43 ارب یورو سے زیادہ سول اور 58 ارب یورو فوجی امداد فراہم کی ہے۔ واڈیفل نے گزشتہ ماہ کیف کے دورے کے دوران زیلنسکی سے کہا کہ جرمنی یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن جرمن ٹیکس دہندگان کو اس کی وضاحت کرنی ہے، اور کم از کم یہ کہ یوکرین تمام خریداریوں میں جرمن دفاعی صنعت کو شامل کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جرمنی میں آرڈرز کی سطح سے مطمئن نہیں ہیں، اور کیف کو اپنی خریداریوں کا جائزہ لینے کو کہا گیا ہے۔ یہ مطالبہ امریکی صدر ٹرمپ کے یوکرین امداد کے طریقہ کار سے ملتا جلتا ہے، جہاں یورپی نیٹو ارکان امریکی ہتھیاروں کی ادائیگی کر رہے ہیں۔