ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں فوجی دستے یا عسکری وسائل تعینات نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی کوریا جنگ میں براہ راست شامل نہ ہونے کے اصول پر قائم ہے اور آئندہ بھی اسی پالیسی پر عمل کرے گا۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ نے جنوبی کوریا پر ایران کے خلاف جنگ میں تعاون کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ امریکی صدر نے جنوبی کوریا کے جنگ میں شامل نہ ہونے پر تنقید بھی کی ہے۔ ایران بھی خبردار کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز یا بحیرہ احمر میں کسی بھی ملک کی جانب سے فوجی تعیناتی کو ایران کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا، جس کے سنگین نتائج ہوں گے۔