ٹرمپ کا گرین لینڈ کی سلامتی کے حوالے سے معاہدے تک پہنچنے کا اعلان

Greenland Greenland

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا کہ امریکہ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ایک معاہدہ طے کر لیا ہے، جس کے تحت امریکہ کو گرین لینڈ کی سلامتی پر “مستقل کنٹرول” حاصل ہو جائے گا اور کسی بھی امریکی حریف کو جزیرے پر فوجی موجودگی سے روکا جائے گا۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکہ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جو گرین لینڈ میں سلامتی اور دیگر تمام ضروریات پر امریکہ کو مستقل کنٹرول دیتا ہے اور امریکہ کے تمام خدشات کو مکمل طور پر دور کرتا ہے، اور اس پر امریکہ کو کوئی لاگت برداشت نہیں کرنی پڑے گی۔ انہوں نے اس معاہدے کو “لامحدود مدتی” معاہدہ قرار دیا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب سے کوئی بھی امریکی حریف امریکہ کی واضح تحریری منظوری کے بغیر گرین لینڈ میں فوجی اڈہ، فوجی موجودگی یا حساس سرمایہ کاری نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ فوری طور پر گرین لینڈ میں اپنی بڑی فوجی موجودگی قائم کرنا شروع کرے گا اور ڈنمارک کے زیرانتظام اس علاقے کے عوام کے ساتھ مل کر اس کی ترقی اور تعمیر کے لیے کام کرے گا۔ ڈینش وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق امریکہ، گرین لینڈ اور ڈنمارک اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس کے علاقے میں مضبوط سلامتی کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کریں گے۔

ڈینش وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ وہ گرین لینڈ، مملکت ڈنمارک اور امریکہ کے لیے ایک بہترین معاہدہ کرنے پر خوش ہیں، اور یہ نیٹو اور یورپ کے لیے بھی بہترین ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ گرین لینڈ کے عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتا ہے۔ گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس-فریڈرک نیلسن نے کہا کہ یہ معاہدہ گرین لینڈ کے مفادات اور بین الاقوامی تعاون میں اس کے مقام کو تسلیم کرتا ہے، اور یہ ہم سب کے لیے فائدہ مند ہے۔ دستخط شدہ معاہدے کو پارلیمانی طریقہ کار سے گزرنا ہوگا۔

ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ اس معاہدے میں جزیرے پر امریکہ کے لیے مستقل رسائی، اڈے کے قیام اور فضائی پرواز کے حقوق شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ چین اور روس سمیت غیر نیٹو ممالک کو گرین لینڈ میں اڈہ قائم کرنے یا فوجیں بھیجنے سے روکتا ہے، اور اس میں حساس شعبوں میں سرمایہ کاری روکنے کے ضروری میکانزم بھی شامل ہیں۔ روس کئی دہائیوں سے آرکٹک میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے، جبکہ چین نے بھی وہاں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ گرین لینڈ میں امریکہ کے قومی سلامتی خدشات کو مستقل اور مکمل طور پر دور کرتا ہے۔

رواں سال کے آغاز میں ٹرمپ نے قومی سلامتی کے پیش نظر گرین لینڈ کے حصول کی اہمیت پر بار بار زور دیا تھا، تاہم حالیہ مہینوں میں یہ معاملہ عوامی توجہ سے کافی حد تک ہٹ چکا تھا۔ گرین لینڈ پر قبضے کے حوالے سے ٹرمپ کے بار بار کے بیانات نے نیٹو اتحاد کے اندر سفارتی بحران پیدا کر دیا تھا اور اس خطرے کو ٹالنے کے لیے ہلچل مچ گئی تھی۔

جنوری میں ڈینش اور گرین لینڈ کے حکام اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور روبیو کے درمیان ملاقات کے بعد امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ نے جزیرے کی خودمختاری سے متعلق جاری تنازعات کے دوران مشترکہ راستہ تلاش کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا۔ اسی ماہ کے آخر میں سوئٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے گرین لینڈ پر مستقبل کے معاہدے کا خاکہ حاصل کر لیا ہے۔

یہ خاکہ اور جمعہ کو بیان کردہ معاہدہ، امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان 1951 کے موجودہ معاہدے سے کافی مماثلت رکھتا ہے، جس کے تحت گرین لینڈ میں وسیع پیمانے پر امریکی فوجی موجودگی کی اجازت دی گئی تھی۔

امریکی اہلکار نے واضح کیا کہ پہلے کسی بھی ملک، بشمول حریف ممالک، کو گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم کرنے یا فوجیں بھیجنے کی اجازت مل سکتی تھی، لیکن اس نئے معاہدے کے تحت اب کوئی بھی غیر نیٹو ملک گرین لینڈ میں اڈہ قائم نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہاں فوجی موجودگی برقرار رکھ سکتا ہے۔