ماسکو میں ’’شنگھائی اسپرٹ‘‘ پر عالمی مکالمہ، لاہور کی تہذیبی و ثقافتی شناخت بھی مرکزِ توجہ

ماسکو (صدائے روس): روس کے دارالحکومت ماسکو میں منعقدہ دوسری عالمی عوامی اسمبلی کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی مشترکہ اقدار، عوامی سفارت کاری اور علاقائی تعاون کے ساتھ لاہور کی تاریخی و ثقافتی شناخت بھی خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔ مختلف ممالک کے مندوبین کی جانب سے بار بار لاہور کا ذکر کیے جانے پر پاکستانی نمائندوں نے شہر کی قدیم تہذیب، ثقافتی ورثے، روایتی کھانوں اور بے مثال مہمان نوازی کو پاکستان کی نمایاں شناخت قرار دیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز (IPDS) کی صدر ڈاکٹر فرحت آصف نے دوسری عالمی عوامی اسمبلی کے موقع پر شنگھائی تعاون تنظیم کی مشترکہ اقدار سے متعلق اعلیٰ سطحی مذاکرے میں شرکت کی اور پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے عوامی سفارت کاری کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

’’شنگھائی اسپرٹ: مشترکہ اقدار اور نظریات سے وابستگی‘‘ کے عنوان سے یہ اجلاس ماسکو کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں منعقد ہوا۔ یہ مذاکرہ عالمی عوامی اسمبلی کے مرکزی موضوع ’’نئی دنیا: وہ اقدار جو ہمیں متحد کرتی ہیں‘‘ کے تحت منعقد ہونے والے پروگراموں کا حصہ تھا۔

اجلاس کی نظامت عالمی عوامی اسمبلی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور ازبکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے مرکز برائے عوامی سفارت کاری کے ڈائریکٹر کابل جان صابروف نے کی۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل نورلان یرمیک بایف اور ایس سی او امور کے لیے روسی صدر کے خصوصی نمائندے بختیار حکیموف نے اجلاس سے خیرمقدمی خطاب کیا اور تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سابق سیکریٹری جنرل اور تاجکستان کے صدر کے ماتحت اکیڈمی آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے پروفیسر راشد علیموف نے اپنی کتاب ’’شنگھائی تعاون تنظیم: علاقائی نظام سے عالمی عنصر تک‘‘ بھی پیش کی۔ کتاب میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ایک علاقائی سلامتی کے نظام سے سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی تعاون کے وسیع پلیٹ فارم تک کے سفر کا تاریخی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

مذاکرے میں بھارت کی کونسل فار پیس افیئرز کے پونیت گور، سول الائنس آف قازقستان کی صدر بانو نورگازیوا، روس میں ایس سی او نیشنل سینٹر فار پبلک ڈپلومیسی کے ڈائریکٹر ستانسلاف کورولیوف اور تاجکستان کی اکیڈمی آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے ریکٹر داورون صفرزادہ نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کی چینی کمیٹی برائے اچھی ہمسائیگی، دوستی اور تعاون کے سیکریٹری جنرل ہو جونبو نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس سے خطاب کیا۔

مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی اعتماد، مشترکہ مفاد، مساوات، مشاورت، ثقافتی تنوع کے احترام اور مشترکہ ترقی پر مبنی ’’شنگھائی اسپرٹ‘‘ محض ایک سفارتی نعرہ نہیں بلکہ خطے میں دیرپا امن، استحکام اور عملی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مؤثر لائحۂ عمل ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فرحت آصف نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے بنیادی اصولوں کو عملی اور روزمرہ تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے عوامی سفارت کاری اور عوام کے درمیان براہِ راست روابط انتہائی اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے ساتھ تحقیقی اداروں، جامعات، میڈیا، تھنک ٹینکس اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو بھی خطے کے ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور دیرپا تعاون کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مختلف ممالک کے شہریوں، نوجوانوں، ماہرین، تعلیمی اداروں اور ثقافتی تنظیموں کے درمیان روابط مضبوط بنا کر ہی شنگھائی اسپرٹ کو عملی صورت دی جا سکتی ہے۔


صدائے روس کے چیف ایڈیٹر سید اشتیاق ہمدانی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فرحت آصف نے کہا کہ ماسکو میں منعقد ہونے والی عالمی عوامی اسمبلی دنیا کے مختلف ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے افراد، اداروں اور تنظیموں کے درمیان مکالمے اور تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو کا یہ ان کا پہلا دورہ ہے اور وہ اس عالمی اجتماع میں انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز، دی ڈپلومیٹک انسائٹ، ڈیفنس پالیسی میگزین اور بالخصوص پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر فرحت آصف نے کہا کہ اسمبلی میں یورپ، ایشیا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا سمیت دنیا کے مختلف خطوں سے بڑی تعداد میں مندوبین نے شرکت کی۔ مختلف ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتوں میں امن، سفارت کاری، علاقائی تعاون، ثقافتی تبادلوں اور عوامی روابط سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ پاکستان کے مثبت تشخص اور عالمی امن کے لیے اس کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔

انہوں نے سید اشتیاق ہمدانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ پاکستانی صحافی عالمی سطح کے اس اہم فورم میں پاکستان کی نمائندگی اور ملک کا مؤقف دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔

پاکستان کے شنگھائی تعاون تنظیم میں کردار اور مستقبل میں تنظیم کی صدارت سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر فرحت آصف نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی اور علاقائی موقع ہوگا۔ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے رکن ممالک کے ساتھ اپنے اقتصادی، تجارتی، سفارتی، تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو علاقائی رابطوں، امن و استحکام، تجارت، سرمایہ کاری، نوجوانوں کے تبادلوں، تعلیمی تعاون اور مشترکہ ترقی کے منصوبوں کو ترجیح دینی چاہیے۔

ان کے مطابق، ایس سی او سے متعلق سرگرمیوں کو صرف سرکاری اجلاسوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ میڈیا، جامعات، تحقیقی اداروں، تھنک ٹینکس اور سول سوسائٹی کو بھی اس عمل میں بھرپور انداز میں شامل کیا جانا چاہیے۔ اس طرح پاکستان خطے میں اپنا فعال، تعمیری اور مثبت کردار زیادہ مؤثر انداز میں پیش کر سکتا ہے۔

سید اشتیاق ہمدانی کے اس سوال پر کہ اجلاس کے دوران بار بار لاہور کا ذکر کیوں کیا جا رہا تھا، ڈاکٹر فرحت آصف نے کہا کہ لاہور پاکستان کا دل اور ملک کی تہذیبی و ثقافتی شناخت کا ایک نمایاں مرکز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم سے متعلق اپنی ثقافتی سرگرمیوں میں لاہور کو خصوصی اہمیت دینے اور اسے ایک اہم ثقافتی مرکز کے طور پر پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک سے آنے والے مندوبین کی گفتگو میں لاہور مسلسل نمایاں رہا۔

ڈاکٹر فرحت آصف نے کہا کہ تہذیب کسی ایک دن میں وجود میں نہیں آتی۔ لاہور کے دامن میں صدیوں پر محیط تاریخ، تہذیبی تسلسل اور ثقافتی ورثہ محفوظ ہے۔ یہ شہر اپنے تاریخی مقامات، فنون، ادب، روایتی کھانوں، زندہ دلی اور مہمان نوازی کے باعث دنیا کے منفرد شہروں میں شمار ہوتا ہے۔

انہوں نے مسکراتے ہوئے لاہور سے متعلق معروف مقولہ بھی دہرایا:

’’جس نے لاہور نہیں دیکھا، وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔‘‘

ڈاکٹر فرحت آصف نے کہا کہ اجلاس میں ’’لاہور، لاہور‘‘ کی آوازیں دراصل اس شہر کی تاریخی گہرائی، ثقافتی کشش، ذائقوں اور بے مثال مہمان نوازی کا اعتراف تھیں۔ لاہور صرف پاکستان کا ثقافتی چہرہ نہیں بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو ثقافت، تاریخ اور عوامی روابط کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی حقیقی طاقت صرف حکومتی اور سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ مختلف معاشروں، تہذیبوں، ثقافتوں اور عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں پوشیدہ ہے۔ عوامی سفارت کاری کے ذریعے ہی ’’شنگھائی اسپرٹ‘‘ کو باہمی اعتماد، ثقافتی احترام، مشترکہ مفاد اور پائیدار ترقی کی عملی شکل دی جا سکتی ہے، جبکہ لاہور جیسا تاریخی اور زندہ دل شہر اس تصور کی بہترین نمائندگی کرتا ہے۔