روس کے ڈوما انتخابات: پولنگ اسٹیشنوں پر بڑھتی قطاریں، نوجوانوں کی شرکت اور ایک ووٹر کا مشاہدہ

Duma Elections Duma Elections

تحریر: اشتیاق ہمدانی | صدائے روس، ماسکو

روس میں ریاستی ڈوما کے انتخابات کے تیسرے اور آخری روز ماسکو کے پولنگ اسٹیشن پر پہنچا تو ووٹروں کا رش دیکھ کر حیران رہ گیا۔ تقریباً دو دہائیوں سے روس کے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کو صحافتی نگاہ سے دیکھ رہا ہوں، جبکہ 2021 سے خود بھی کئی مرتبہ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکا ہوں۔ لیکن اپنے تجربے میں پولنگ اسٹیشن پر ایسی طویل قطار کم ہی دیکھی تھی۔ وہاں میری موجودگی بطور ووٹر تھی؛ تاہم اندر کا ماحول، امیدواروں کی معلومات اور انتخابی کارروائی نے صحافتی تجسس بھی جگا دیا۔

یہ انتخابات جدید روس کی ریاستی ڈوما کے نویں دور کے لیے ہو رہے ہیں۔ ڈوما روسی پارلیمان کا ایوانِ زیریں ہے، جس کے 450 ارکان پانچ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ ان میں 225 نشستیں جماعتی فہرستوں اور 225 یک رکنی حلقوں کے ذریعے پُر ہوتی ہیں۔ صدارتی انتخابات الگ ہیں؛ 1991 سے 2024 تک روس میں آٹھ صدارتی انتخابات ہو چکے ہیں، جبکہ صدر کی موجودہ مدت چھ سال ہے۔ اس لیے موجودہ ووٹنگ صدر کے انتخاب کے بجائے پارلیمانی نمائندگی کے تعین کے لیے ہے۔ انتخابی نظام اور تاریخی پس منظر⁠

پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوتے ہی جس بات نے توجہ کھینچی، وہ رش کے باوجود نسبتاً پُرسکون ماحول تھا۔ لوگ اپنی باری کے منتظر تھے، نوجوان بھی نمایاں تعداد میں موجود تھے، لیکن میرے سامنے کسی کو مخصوص امیدوار کے لیے قائل کرنے کی کوشش نہیں ہو رہی تھی۔ نہ نعرے بازی تھی، نہ سیاسی بحث کا شور، اور نہ ہی کسی نے مجھ سے پوچھا کہ کس جماعت کو ووٹ دینا ہے۔

مجھے سامنے لگے معلوماتی بورڈ کی طرف رہنمائی دی گئی کہ امیدواروں کا تعارف پڑھ لیجیے اور اپنی مرضی سے انتخاب کیجیے۔ یہ ماسکو کے کُنتسیوو یک رکنی انتخابی حلقے نمبر 196 کے امیدواروں کا بورڈ تھا۔ تصاویر اور جماعتوں کے ناموں کے ساتھ تاریخِ پیدائش، تعلیم، پیشہ، رہائش اور سابقہ کام کی تفصیلات درج تھیں۔

بورڈ پر موجود چھ امیدواروں کی عمریں درج تاریخوں کے مطابق تقریباً 27، 39، 42، 43، 48 اور 63 سال بنتی تھیں۔ ایک نسبتاً بڑی عمر کے امیدوار کے مقابلے میں باقی نوجوان اور درمیانی عمر کے تھے۔ اس منظر نے سیاسی نمائندگی میں نئی نسل کی جگہ کی طرف توجہ دلائی۔ البتہ محض نوجوان ہونا تبدیلی کی ضمانت نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ امیدوار کیا پروگرام پیش کرتا ہے اور منتخب ہونے کے بعد کیا کارکردگی دکھاتا ہے۔

میں نے یہ بھی دیکھا کہ آنے والے ووٹر امیدواروں کے نام اور ان کا تعارف پڑھ رہے تھے۔ بعض لوگ بورڈ کی تصاویر موبائل فون میں لے کر تفصیلات کا مطالعہ کر رہے تھے۔ یوں یہ بورڈ محض رسمی نمائش نہیں تھا، بلکہ لوگ اسے معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال بھی کر رہے تھے۔ میں خود صحافتی دلچسپی کے باعث امیدواروں کا تعارف الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر پہلے پڑھ چکا تھا، لیکن موقع پر یہ معلومات دستیاب ہونا دوسرے ووٹروں کے لیے بھی مفید تھا۔

بورڈ کا ایک اہم حصہ امیدواروں کی آمدن اور اثاثوں سے متعلق تھا۔ اس میں آمدن کے ذرائع، جائیداد، بینک کھاتوں اور دیگر مالی مفادات کی تفصیلات درج تھیں۔ ووٹر کے سامنے صرف مسکراتی تصویر اور انتخابی وعدہ نہیں، امیدوار کے مالی پس منظر کا ریکارڈ بھی موجود تھا۔

یہ معلومات عوامی احتساب کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ آج کے گوشوارے محفوظ رکھ کر پانچ سال بعد دستیاب مالی تفصیلات سے موازنہ کیا جائے تو ووٹر پوچھ سکتا ہے کہ منتخب نمائندے کی آمدن اور اثاثوں میں کتنا اضافہ ہوا اور کہاں سے ہوا۔ طنزاً یوں کہیے کہ اثاثے اچانک پھولنے لگیں تو حساب بھی دیجیے؛ ہر بار کوئی «عربی شیخ» ہیرے جواہرات اور ریال و درہم کی تھیلی لیے کہانی بچانے تو نہیں آجائے گا! اثاثوں میں اضافہ بذاتِ خود بدعنوانی کا ثبوت نہیں، لیکن اس اضافے کا قابلِ تصدیق ذریعہ ضرور ہونا چاہیے۔ ورنہ گوشوارے عوامی احتساب کی دستاویز کے بجائے تحفوں کی داستان بن کر رہ جائیں گے۔

معلوماتی بورڈ دیکھنے کے بعد میں قطار میں کھڑا ہوگیا۔ اپنی باری آنے پر شناخت کی تصدیق اور بیلٹ پیپر کے حصول کی کارروائی شروع ہوئی۔ میری اجازت سے پاسپورٹ اسکین کیا گیا اور ایک اقرارنامے پر دستخط لیے گئے۔ میری سمجھ کے مطابق اس میں تصدیق کی گئی تھی کہ میں ان انتخابات میں پہلے ووٹ نہیں ڈال چکا اور دوبارہ ووٹ نہیں ڈالوں گا۔ میرے سامنے دوسرے ووٹروں سے بھی یہی کارروائی کی جا رہی تھی۔ شناخت کی جانچ اور بیلٹ پیپر کے حصول کے اس مرحلے میں تقریباً پندرہ سے بیس منٹ لگے۔

اس قانونی ذمہ داری کا پس منظر بھی قابلِ ذکر ہے۔ روس کے انتظامی خلاف ورزیوں کے ضابطے (КоАП РФ) کی دفعہ 5.22، شق 2 کے تحت ایک ہی ووٹنگ میں ایک سے زیادہ مرتبہ یا کسی دوسرے ووٹر کی جگہ ووٹ ڈالنے کے لیے بیلٹ حاصل کرنے پر، اگر معاملہ فوجداری جرم نہ بنتا ہو، 30 ہزار روبل جرمانہ مقرر ہے۔ اسی نوعیت کی خلاف ورزی پر پہلے سزا یافتہ شخص کے دوبارہ ایسا کرنے کی صورت میں شق 3 کے تحت 50 ہزار روبل جرمانہ ہے۔ دفعہ 5.22⁠

مزید سنگین صورت میں روسی ضابطۂ فوجداری (УК РФ) کی دفعہ 142.2، شق 2 ایک ہی ووٹنگ میں دو سے زیادہ مرتبہ ووٹ ڈالنے کے مقصد سے بیلٹ حاصل کرنے پر ایک لاکھ سے تین لاکھ روبل جرمانے یا دیگر متبادل سزاؤں کے ساتھ تین سال تک قید کی گنجائش رکھتی ہے۔ یہ عمومی قانونی پس منظر ہے؛ میرے دستخط کردہ اقرارنامے کی اصل عبارت الگ دستاویز ہے۔ دفعہ 142.2⁠

اس کارروائی کے دوران آزاد کشمیر میں اپنے انتخابی تجربات بھی یاد آئے۔ میں نے وہاں آخری ووٹ 1990 میں ڈالا تھا۔ اگلے انتخابات میں ہماری پارٹی کا امیدوار دستبردار ہوگیا—یعنی صاحب «دھواں مار گئے»! چنانچہ میں نے کسی دوسری جماعت کے امیدوار کو بھی ووٹ نہیں دیا اور اُس روز پولنگ اسٹیشن گیا ہی نہیں۔

آزاد کشمیر میں اپنے اُس دور کے تجربے میں بیلٹ حاصل کرنے اور ووٹ ڈالنے کا مرحلہ عموماً پانچ سے دس منٹ میں مکمل ہوجاتا تھا۔ یہاں زیادہ وقت لگا۔ تاہم مختلف ادوار، رش اور انتظامات کے فرق کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ اصل انتظامی سوال یہ ہے کہ شناخت کی مکمل جانچ کے ساتھ ووٹر کا انتظار کس طرح کم کیا جائے۔

تصدیق کے بعد بیلٹ پیپر ملا تو جماعتوں والی فہرست میں سب سے اوپر «ییدینایا روسیا»، یعنی یونائیٹڈ رشیا، کا نام دیکھ کر سوال پیدا ہوا۔ یہ صدر ولادیمیر پوتن کی حمایت یافتہ حکمران جماعت ہے۔ سیاسی پس منظر⁠

میں نے عملے سے پوچھا کہ جماعتوں کی ترتیب کس بنیاد پر بنائی گئی ہے، کیونکہ یہ حروفِ تہجی کے مطابق دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے بتایا کہ ترتیب قرعہ اندازی سے طے ہوتی ہے؛ جس جماعت کا نام پہلے نکلتا ہے، وہ پہلے نمبر پر آتی ہے، اور باقی نام بھی اسی ترتیب سے درج ہوتے ہیں جس ترتیب سے نکلیں۔ یعنی ان کی وضاحت کے مطابق قرعہ اندازی صرف پہلے نمبر کے لیے نہیں، پوری فہرست کی ترتیب کے لیے تھی۔

اپنی انتخابی ترجیح کے حوالے سے ایک دلچسپ ذاتی واقعہ بھی بیان کرتا چلوں۔ 2021 سے روس میں کئی مرتبہ ووٹ ڈال چکا ہوں، لیکن مجھے یاد نہیں کہ اس سے پہلے کسی نے فون کرکے اپنی جماعت کے لیے ووٹ مانگا ہو۔ انتخابات سے چند روز قبل ایک خاتون کی کال آئی، جنہوں نے اپنی جماعت کو ووٹ دینے کی درخواست کی۔ میں نے ان کی درخواست قبول کی۔ ہلکے پھلکے انداز میں کہوں تو پہلی بار کسی نے ووٹ مانگا تھا، انکار کیسے کرتا!

اس واقعے سے ذاتی رابطے کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے۔ جہاں امیدواروں کے ساتھ براہِ راست واقفیت کم ہو، وہاں ایک گفتگو بھی ووٹر کے فیصلے پر اثر ڈال سکتی ہے۔ تاہم یہ میرا ذاتی تجربہ ہے، تمام ووٹروں کے فیصلوں کی وضاحت نہیں۔

میں نے اپنی پسند کے امیدوار اور جماعت کے حق میں نشان لگایا اور بیلٹ پیپر باکس میں ڈال دیا۔ نہ ووٹ ڈالتے ہوئے تصویر بنوائی، نہ کوئی نمائش کی۔ ایک شہری کی حیثیت سے اپنا حق استعمال کیا اور باہر نکلنے کے لیے مڑ گیا۔

پولنگ اسٹیشن میں میرے مجموعی قیام کو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ہو چکا تھا۔ باہر نکلتے وقت دیکھا کہ قطار میرے پہنچنے کے وقت کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ عملے سے پوچھا کہ کیا تینوں دن ایسا ہی رش رہا؟ جواب ملا کہ پہلے دو دن تعداد نسبتاً کم تھی، لیکن آج صبح سے زیادہ لوگ آرہے ہیں۔ عملہ نوجوانوں کی آمد پر خصوصاً خوش دکھائی دیا۔ میرے سامنے بھی نوجوان ٹولیوں میں آتے، ووٹ ڈالتے اور واپس چلے جاتے تھے۔

ہمارے ہاں انتخابی دن بعض اوقات ووٹنگ کے ساتھ ایک مسلسل سیاسی اجتماع بھی بن جاتا ہے۔ یہاں میرے مشاہدے میں عام ووٹر اپنا کام مکمل کرکے روانہ ہو رہا تھا؛ «جیتے گا بھائی جیتے گا» کے نعرے اور نتائج تک وہیں ڈٹے رہنے کا ماحول دکھائی نہیں دیا۔

پاکستان میں فارم 45 اور فارم 47 کے گرد گھومتی بحث یاد آئے تو طنزاً یہی خیال آتا ہے کہ ہمارے ہاں بعض اوقات اصل «انتخابی کھیل» پولنگ بند ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ لیکن اس تقابل کا سنجیدہ پہلو یہ ہے کہ ووٹ ڈالنے کے ساتھ اس کی درست گنتی، نتائج کی دستاویز بندی اور ان کی جانچ بھی ضروری ہیں۔ پُرسکون پولنگ پورے انتخابی عمل کے جائزے کا ایک حصہ ہے، مکمل فیصلہ نہیں۔

ووٹ ڈالنے کے بعد عملے کی اجازت سے چند تصاویر لیں۔ شرط یہ تھی کہ ووٹروں کے چہرے نظر نہ آئیں۔ اس شرط کا خیال رکھتے ہوئے امیدواروں کے معلوماتی بورڈ اور متعلقہ تفصیلات محفوظ کیں۔ یہ تصاویر ووٹ ڈالنے کے لمحے کی نمائش سے الگ تھیں۔

اس کے بعد صحافتی تجسس نے مجھے دوسرے پولنگ اسٹیشنوں کی صورتِ حال دیکھنے پر آمادہ کیا۔ وہاں دوبارہ ووٹ ڈالنے نہیں، صرف ماحول دیکھنے جانا تھا۔ شہر کے مرکز اور دو مختلف علاقوں میں بھی مشاہدہ کیا۔ جن مقامات پر گیا، وہاں بیلٹ پیپر جاری کیے جانے والی جگہ تک پہنچنے میں مجھے روک ٹوک کا سامنا نہیں ہوا۔ یہ میری رسائی کا ذاتی تجربہ تھا، ہر شخص کے لیے غیرمشروط داخلے کے کسی عمومی قانونی اصول کا بیان نہیں۔

ان مقامات پر بھی خاصی تعداد میں لوگ ووٹنگ میں شریک تھے اور نوجوانوں کی موجودگی نمایاں تھی۔ اس طرح اپنے پولنگ اسٹیشن پر دیکھا گیا منظر دوسرے مقامات پر بھی نظر آیا۔ پھر بھی چند پولنگ اسٹیشنوں کی قطاروں کو پورے شہر یا ملک کی شرحِ شرکت کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔

وہاں بھی میرے سامنے کوئی کسی سے یہ نہیں پوچھ رہا تھا کہ کس کو ووٹ دینا ہے۔ نہ زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے تھے، نہ جماعتی بینروں اور جھنڈوں کی بھرمار۔ جہاں جھنڈا دکھائی دیا، وہ روس کا قومی پرچم تھا۔ امیدواروں کے تعارف کے معلوماتی بورڈ البتہ واضح طور پر موجود تھے۔

نوجوانوں کی شرکت ان مشاہدات کا نمایاں پہلو رہی، لیکن یہ سمجھنا ابھی باقی ہے کہ ان کے فیصلوں میں جماعتی وابستگی، امیدوار کا تعارف، معاشی مسائل یا مستقبل کی توقعات میں سے کس عامل کا زیادہ حصہ تھا۔ اس کے لیے ووٹروں سے مزید گفتگو اور اعدادوشمار درکار ہوں گے۔ نوجوانوں کی موجودگی کو دیکھنا ایک مشاہدہ ہے؛ ان کی سیاسی ترجیحات کا تعین الگ تحقیق چاہتا ہے۔

یہ مشاہدات قلم بند کرتے وقت ماسکو میں دوپہر تقریباً تین بجے تھے اور پولنگ جاری تھی۔ روس گیارہ ٹائم زونز میں پھیلا ہوا ہے، اس لیے مشرقی اور مغربی علاقوں میں انتخابی دن ایک ہی وقت پر ختم نہیں ہوتا۔ مشرق میں شام اور رات پہلے آتی ہے، جبکہ مغربی علاقوں میں ووٹنگ بعد تک جاری رہتی ہے۔ ٹائم زونز میں ووٹنگ کا پس منظر⁠

پولنگ کے اختتام کے ساتھ گنتی اور پھر ابتدائی نتائج کا مرحلہ سامنے آئے گا۔ رات کے دوران جماعتوں کی کارکردگی کے رجحانات واضح ہونا شروع ہوسکتے ہیں، لیکن ابتدائی اعدادوشمار، مکمل گنتی اور نتائج کی باضابطہ توثیق الگ مراحل ہیں۔

آج میں نے بطور ووٹر قطار میں انتظار کیا، امیدواروں کا تعارف پڑھا، شناخت کی کارروائی مکمل کی اور اپنا ووٹ ڈالا۔ بعد میں دوسرے پولنگ اسٹیشنوں کا ماحول بھی دیکھا۔ اب اگلا مرحلہ انتخابی کمیشن کے دفتر جاکر نتائج کے اعلان اور متعلقہ کارروائی کا مشاہدہ کرنا ہے۔ کون سی جماعت اپنی پوزیشن مضبوط کرتی ہے اور ووٹ سے نتیجے تک کا عمل کیسے مکمل ہوتا ہے، اس کی تفصیل اگلی تجزیاتی رپورٹ میں پیش کروں گا۔