اقوام متحدہ سے خطاب میں ٹرمپ کی ایران کو “مکمل تباہ” کرنے کی دھمکی

Trump Trump

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ایران کو “مکمل طور پر تباہ” کر دیں گے، اور کہا کہ وہ ایک “بڑے فیصلے” کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ان کی پیشگوئی ہے کہ تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکہ-اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کا دفاع کیا اور تہران پر جان بوجھ کر معاہدے میں تاخیر کا الزام عائد کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ مجھے ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے، کیا ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا جائے جو اسے دوبارہ تعمیر ہونے اور پہلے سے کہیں زیادہ بڑا ملک بننے کا موقع دے؟ اس کے بعد انہوں نے متبادل پیش کرتے ہوئے کہا، یا میں اسلامی جمہوریہ کو تیزی سے مکمل تباہ کر دوں؟

تاہم ٹرمپ نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد معاہدہ طے پا جائے گا۔ خطاب کے بعد میں انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران “کسی نہ کسی طرح یقیناً یہ معاملہ طے کر لیں گے”۔

ٹرمپ نے دیگر ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس وقت تک ایران کی “مکمل اقتصادی تنہائی” کو یقینی بنانے میں امریکہ کا ساتھ دیں جب تک وہ واشنگٹن کی شرائط پوری نہیں کرتا۔

ٹرمپ کے نئی تقریباً سات ماہ سے جاری تنازع کے دفاع کے دوران، جس میں انہوں نے تہران پر ایٹمی ہتھیاروں کے حصول، دہشت گردی کی حمایت اور تجارتی جہاز رانی پر حملوں کا الزام لگایا، ایرانی وفد کے اراکین جنرل اسمبلی ہال سے واک آؤٹ کر گئے، اور صرف ایک کم درجے کا نمائندہ نشست پر موجود رہا۔

تاہم چند گھنٹوں بعد ٹرمپ کا لہجہ زیادہ مصالحانہ ہو گیا، اور انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے نمائندوں اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی نمائندوں کے ساتھ ایک “انتہائی نتیجہ خیز ملاقات” کی ہے۔ وٹکاف نے بتایا کہ ثالث پورے دن امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان آتے جاتے رہے اور بات چیت کا ایک دور مکمل کیا، جس کے بارے میں واشنگٹن کو امید ہے کہ یہ “تعمیری اور امید افزا” ثابت ہوگا۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن کی درخواست پر جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی مذاکرات کاروں سے ملاقات کی۔ رپورٹ کے مطابق تہران نے اس ملاقات میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط پیش کیں، جن میں امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔

اسی دوران ایران کی فوج نے ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی بھی مزید امریکی یا اسرائیلی جارحیت کا جواب زیادہ شدید جوابی حملوں سے دیا جائے گا۔