ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے نیویارک میں ملاقات کی، جس میں بحیرہ اسود میں سیکیورٹی کے مسائل اور تجارتی جہازوں پر حملوں کی ناقابل قبولیت پر بات چیت کی گئی۔
ترکیہ کے صدارتی دفتر کے مطابق صدر اردوان نے زور دیا کہ بحیرہ اسود میں جہاز رانی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں اور تجارتی جہازوں پر حملوں کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس تناظر میں تمام فریقوں سے ذمہ دارانہ رویے کی توقع رکھتے ہیں۔
یوکرینی تنازع کے مذاکراتی عمل کے امکانات کے بارے میں بات کرتے ہوئے اردوان نے اشارہ دیا کہ ترکیہ “پائیدار امن قائم کر کے” تنازع ختم کرنے کے لیے “ہمیشہ اپنی بساط کے مطابق سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہے” اور یہ کہ ملک “براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔”
ترکیہ کے رہنما نے دفاعی صنعت، توانائی اور معدنیات نکالنے کے شعبوں میں یوکرین کے ساتھ تعاون کو بڑھانے کی بھی وکالت کی۔
صدارتی دفتر کے مطابق ترک وفد میں وزیر خارجہ ہاکان فیدان، قومی انٹیلیجنس تنظیم کے ڈائریکٹر ابراہیم کالن اور دفاعی صنعتوں کی ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ ہالوک گورگون بھی شامل تھے۔