ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ایران نے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے تمام منصوبے ترک کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان پر صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، عملی طور پر ایٹمی ہتھیار کے کسی بھی منصوبے سے دستبردار ہو رہا ہے۔ ایرانی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ ایٹمی ہتھیار کے حصول کے خواہاں نہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں ابھی ایران سے متعلق ایک فیصلہ کرنا باقی ہے، تاہم انہوں نے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ امریکی رہنما نے یہ بھی کہا کہ ایران شکست کھا چکا ہے، اور اسلامی جمہوریہ کے ساتھ تنازع کا اختتام اچھے یا برے، دونوں طریقوں سے ہو سکتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا۔ واشنگٹن اور تہران نے جون میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کے تحت تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر فوری جنگ بندی کا انتظام کیا گیا تھا۔ تاہم امریکہ نے 8 جولائی کی رات دوبارہ ایران پر بڑے پیمانے کے حملے شروع کر دیے، اور تہران پر آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ اس آبنائے سے عالمی تیل تجارت کا تقریباً 25 فیصد اور مائع قدرتی گیس تجارت کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ اس کے بعد امریکی انتظامیہ نے عملی طور پر ایران کے خلاف بڑے پیمانے کی فوجی طاقت کے استعمال کے خاتمے کا اشارہ دیا اور پابندیوں کے ذریعے ملک کو معاشی طور پر دبانے کی کوشش کی جانب رخ کیا۔