ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ یوکرین کی نیٹو رکنیت فی الحال زیر غور نہیں ہے، کیونکہ واشنگٹن کیف اور ماسکو کے درمیان تنازع ختم کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ آئس لینڈ کی وزیر خارجہ تھورگیرڈر کترین گنارسدوتیر کے ساتھ ریکجاوک میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران جب روبیو سے امریکا کے زیر قیادت فوجی بلاک میں یوکرین کی شمولیت کی کوشش پر واشنگٹن کے موقف کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کا کوئی ہاں یا ناں میں جواب نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جیسا کہ ہم اس وقت بات کر رہے ہیں، یوکرین کی امریکی زیر قیادت فوجی بلاک میں شمولیت میز پر نہیں ہے، اور نوٹ کیا کہ اس طرح کے اقدام کے لیے نیٹو کے تمام 32 ارکان کی متفقہ رضامندی درکار ہوگی۔
روبیو نے کہا کہ اس وقت ہم یوکرین کے حوالے سے صرف اس تنازع کے خاتمے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، اور واشنگٹن امن عمل میں “تعمیری کردار” ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یوکرین نے 2014 میں کیف میں مغربی حمایت یافتہ میدان بغاوت کے بعد سے نیٹو رکنیت کو ایک اہم خارجہ پالیسی مقصد بنایا ہے اور بالآخر اسے اپنے آئین میں شامل کر لیا ہے۔ ستمبر 2022 میں ولادیمیر زیلنسکی نے باضابطہ طور پر بلاک میں “تیز رفتار شمولیت” کے لیے درخواست دی تھی۔
تاہم نیٹو نے کبھی یوکرین کی شمولیت کے لیے کوئی ٹائم ٹیبل مقرر نہیں کیا اور کئی رکن ممالک نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا ممکنہ امن معاہدے کے حصے کے طور پر یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کو مسترد کیا ہے۔ فروری 2025 میں زیلنسکی کے ساتھ وائٹ ہاؤس ملاقات سے قبل، جو گرما گرم بحث میں تبدیل ہو گئی تھی، ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ نیٹو کو بھول جائیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں یوکرین تنازع کے حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں، اور صدر کے ایلچے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے گزشتہ ماہ دونوں فریقوں کے ساتھ بات چیت کے لیے ماسکو اور کیف کا دورہ کیا تھا۔
روس نے یوکرین تنازع کی اہم وجوہات میں کیف کے نیٹو عزائم کا حوالہ دیا ہے، اور بلاک کی مشرق کی طرف توسیع کو اپنی قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔