ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایک وقت تھا جب لاہور سے خانیوال تک پاکستان ریلوے کی الیکٹرک ٹرینیں چلتی تھیں۔ یہ پاکستان کے ریلوے نظام کا ایک جدید دور تھا، جہاں بجلی سے چلنے والے انجن اپنی بہتر رفتار اور نسبتاً کم آپریٹنگ لاگت کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ یہ جدید نظام مشکلات کا شکار ہوتا گیا۔ اوور ہیڈ بجلی کی تاروں کی چوری، بجلی کی فراہمی میں مسائل، برقی انجنوں کی دیکھ بھال اور اسپیئر پارٹس کی کمی نے اس نظام کو متاثر کیا۔ بعد میں لاہور-خانیوال سیکشن کی ٹریک ڈبلنگ کے دوران بھی برقی نظام کو مکمل طور پر آگے بڑھانے کے بجائے نئی لائن پر بجلی کا انتظام نہ ہونے سے برقی ٹرینوں کا آپریشن مزید مشکل ہو گیا۔ یوں ایک ایسا نظام، جو کبھی پاکستان ریلوے کی جدید ٹیکنالوجی کی علامت سمجھا جاتا تھا، رفتہ رفتہ ختم ہو گیا اور پاکستان میں الیکٹرک ریلوے آپریشن بالآخر بند ہو گیا۔
آج جب ہم پرانی تصاویر میں ان خوبصورت الیکٹرک انجنوں کو دیکھتے ہیں تو ایک سوال ضرور ذہن میں آتا ہے: اگر یہ نظام اتنا جدید اور تیز رفتار تھا تو پھر اسے مستقل طور پر کیوں ختم ہونے دیا گیا؟ کیا بہتر دیکھ بھال اور منصوبہ بندی سے پاکستان میں الیکٹرک ریلوے کا سفر جاری رہ سکتا تھا؟