نیتن یاہو کا امریکا کے بغیر بھی ایران پر حملے کا اعلان

Israeli Tank Israeli Tank

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل ضرورت پڑنے پر امریکی شمولیت کے بغیر بھی ایران پر حملے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے تہران کی حکومت کا تختہ الٹنے کا عزم ظاہر کیا اور پہلے حملہ کرنے کو اپنے سیکیورٹی نظریے کا مرکزی اصول قرار دیا۔

یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فروری میں امریکا اور اسرائیل کی شروع کی گئی جنگ پر بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ اسرائیل، جو امریکی فوجی امداد اور اسلحے کا بڑا وصول کنندہ ہے، اپنی کارروائیوں کا جواز سلامتی کے تقاضوں کو بتاتا ہے، حالانکہ تنازع پورے خطے میں پھیل چکا ہے، آبنائے ہرمز کی جہاز رانی متاثر ہوئی ہے اور عالمی توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

اتوار کو اپنے سیکیورٹی نظریے پر خطاب میں نیتن یاہو نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک ایرانی حکومت قائم ہے، وہ اپنی جوہری اور عسکری صلاحیتیں دوبارہ تعمیر کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل امریکی شمولیت کا انتظار کیے بغیر مزید حملے کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے الفاظ تھے کہ اگر ہمیں اکیلے کارروائی کرنا پڑی تو ہم اکیلے کریں گے۔

نیتن یاہو نے ایران کے خلاف اسرائیل کی سابقہ مہم کو نمونے کے طور پر پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا تھا کہ وہ بہرصورت تہران پر حملہ کریں گے، اور انہیں فردو جوہری تنصیب پر حملے میں شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے ایران کے خلاف مزید کارروائی کو نامکمل کام قرار دیا اور واضح طور پر ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کو حتمی مقصد بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پر کام ہو رہا ہے اور ہم یہ کر کے رہیں گے۔

تہران بارہا زور دیتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے اور وہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تردید کرتا ہے، اس کے باوجود نیتن یاہو نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکی اسرائیلی حملوں نے ایران کو ایسا ایٹم بم حاصل کرنے سے روکا جو اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے تھا۔

انہوں نے تازہ حملوں کو اس وسیع تر نظریے کا حصہ قرار دیا جو دفاع پر حملے کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے پہلے وار کرنے کو بچپن کی گلی کی لڑائیوں میں برتری حاصل کرنے سے تشبیہ دی اور کہا کہ اسرائیل اپنی سرحدوں سے بہت دور اڈے قائم کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو کئی برس زندہ رہنے کے لیے اپنی تلوار کے سہارے جینا ہوگا۔

انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ان مراکز کو، جنہیں وہ خطرے کے مراکز کہتے ہیں، قبضے میں لے کر تباہ کرنے کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا، فلسطینی ریاست کے قیام کی روک تھام کو بنیادی اصول قرار دیا، اور اپنی ڈیٹرنس حکمت عملی میں فوجی اور شہری نظاموں میں خلل ڈالنے کو بھی شامل کیا۔

امریکا اور ایران کے مذاکرات پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں۔ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ تہران کی تجویز کو ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کر دیا تھا اور اصرار کیا تھا کہ امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران بری طرح ہار رہا ہے، جبکہ وہ واشنگٹن کی شرائط پر معاہدہ چاہتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو دوبارہ کہا کہ اگر واشنگٹن تہران کی شرائط مان لے تو آبنائے ہرمز میں معمول کی جہاز رانی سات دنوں میں بحال ہو سکتی ہے۔ ان شرائط میں بحری ناکہ بندی ختم کرنا، تیل کی برآمدات پر پابندیاں نرم کرنا، منجمد اثاثے جاری کرنا اور غزہ اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں سمیت تمام محاذوں پر دشمنی ختم کرنا شامل ہیں۔

اس کے باوجود ٹرمپ نے نئی بمباری کی دھمکی دی ہے، اور ایکسیوس نے حال ہی میں رپورٹ کیا کہ امریکی حکام کو توقع ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد بڑی جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں۔ تہران نے خبردار کیا ہے کہ ایک اور حملہ وسیع تر جوابی کارروائی کا سبب بنے گا، جس کا ہدف خلیج بھر میں امریکی ٹیکنالوجی کا ڈھانچہ ہو سکتا ہے۔