زیلنسکی کا دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان

Vladimir Zelensky Vladimir Zelensky

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

یوکرینی رہنما ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اگر روس کے ساتھ تنازع ختم ہونے سے پہلے انتخابات ہوئے تو وہ ایک بار پھر صدارتی امیدوار بننا چاہیں گے۔ ان کی پانچ سالہ مدت دو سال قبل ختم ہو چکی ہے، جس کی بنیاد پر ماسکو ان کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کی جگہ نیا رہنما لانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

زیلنسکی نے مئی 2024 میں اپنی مدت ختم ہونے کے بعد سے نئے انتخابات کرانے سے انکار کیا ہے اور فروری 2022 میں روس کے ساتھ تنازع بڑھنے کے بعد نافذ مارشل لا کو جواز بنایا ہے۔ 2019 کی انتخابی مہم میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ صرف ایک مدت کے لیے صدر رہیں گے۔

اتوار کو این بی سی نیوز کے پروگرام میٹ دی پریس میں گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ اگر جنگ کے دوران انتخابات ہوئے تو وہ ایک اور مدت کے لیے امیدوار ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ ان کی ذمہ داری ہے، کیونکہ انہیں اس جنگ کے آغاز سے اختتام تک اپنے ملک کا دفاع کرنا ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر کم از کم 60 دن کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تاکہ انتخابات کی تیاری کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو قوانین میں ترمیم اور انتخابی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔

ماسکو یہ مطالبہ مسترد کر چکا ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کے مطابق کیف انتخابات کو 60 روزہ جنگ بندی حاصل کرنے کا بہانہ بنا سکتا ہے تاکہ وہ دوبارہ منظم ہو، اپنے فوجی نقصانات پورے کرے اور لڑائی دوبارہ شروع کرے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ روس انتخابات کے دن حملے معطل کرنے کے لیے تیار ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن کا مؤقف ہے کہ زیلنسکی کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کے صدارتی اختیارات پارلیمان کو منتقل ہو جانے چاہیے تھے، اور انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا وہ پابند کرنے والے امن معاہدوں پر دستخط کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زیلنسکی کے انتخابات نہ کرانے کو اسٹریٹجک غلطی قرار دیا ہے۔

زیلنسکی کے عزائم کو ملک کے اندر بھی مخالفت کا سامنا ہے۔ کیف انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشیالوجی کے ستمبر کے سروے کے مطابق 53 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ انہیں صرف ایک صدارتی مدت تک رہنا چاہیے، جبکہ دسمبر 2025 میں یہ شرح 46 فیصد تھی۔

ٹرمپ نے زیلنسکی پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ مغربی امداد کی اربوں ڈالر کی رقم لیتے ہوئے تنازع کو طول دے رہے ہیں۔ اس ماہ کے آغاز میں انہوں نے نئے صدر کا مطالبہ کیا اور کہا کہ زیلنسکی لڑائی ختم کرنے کے مواقع بار بار مسترد کر چکے ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کی تجویز ہے کہ یوکرین ایسا نیا رہنما لائے جو معاہدہ کر سکے۔

انہوں نے روسی تیل صاف کرنے کے کارخانوں پر یوکرینی حملوں کو عالمی ڈیزل بحران اور قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا، جس سے امریکی کسان متاثر ہو رہے ہیں، اور زیلنسکی پر دنیا کے لیے مسائل پیدا کرنے کا الزام لگایا، حالانکہ وہ حملے روکنے کا بار بار مطالبہ کر چکے ہیں۔ اتوار کو ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ زیلنسکی یہ جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے اور شاید کبھی چاہتے بھی نہیں تھے، اور دعویٰ کیا کہ وہ دو سال پہلے روس کے ساتھ بہتر معاہدہ کر سکتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین تباہ حال ہے اور اس کی مرد آبادی کم، زخمی یا ہلاک ہو چکی ہے۔