روس کی یوکرین اور امریکا کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات بحال کرنے پر آمادگی

Witkoff tells Putin Witkoff tells Putin
Signature: CwbaV15R+peuTFyISwQLfKP4p6FnX6pbeSv4dQfFvQqUvT/84XbnvbhN2IB/LKU7fGUQ78AthqvwfoK+r6Z/2f/60VDbC5ON8htxAzKjWyXuJXvftbunvgZLgIA+pLz1WjIgzt/jlpGQsV3YePOFcpLhESrZYY0+szYKKaApE8PbZRqIkRt0RZgDDVQlQEhKphnVk13F3KqEGk9X5RaFTuap1QEH6X+rihfsq62XO2w6vhD2qSM1ixcdf0CLl9qNlXUud9xFYvd/l+y6rimqa4+S+02IHMH81URhu1uqK+1TtXafF1opxabcscP3O2H+qCZTeud8dN/FuR1AWT1uA+mJjI7sqSeYOkkl4gw+0hMROCE7z+ac0s8fXlwH9QoGcLMGigCT2ZEG8rNWGGXQ+LhVgByeGxJKysJTitos4aa1OFjwCB0kzkB+6SUrffUCCKbavRBgZAo6+t276fClQW0B3OsqWK2e9MF3Fz8PYnimfoDGc3s7N4pfgp7d2nLPdWcVDBGWySH3tcIGSQx78oMJ73ihdc8j9V31ZeRNLIReq/5nsozS1OFlEotfhO51iWd2JanNDqf6LL6KIR3dIUfltLdy5CY3AkVhLvBbw/qod7l1fOR4HvMq5SNwTqKW7/CFDs65zNKbJ0ll8C9NcT1gR/XB4w2MiR9opZr/tlUvXQ8h/0OMll2X1hV984t86/ZcGmnXnaA+C03TKIFnvX+b5/TRehRuk02NPzxoet67KmX0TKTgGRA8wV12+pWwgvndpZ+7o6SMXE/4wD7Cxm3cwrh9LA1X70Pusk6fePIYJKeWG4dsYFqbEFBaCnZP94kbiQEOPbY0rgB4trNSq5bsSjlDJ0wuLJqJD9RXWKWJueYBrmNhL4W19q/PoSKehzNfP7yxKQcSICzOKurihLeQ1r6Krq2DNc0DStQyDq5OZQxAtJl/PbA0sP7LKrIO0/0m2EdGePFggh20p/07+qNqWFSlkPHC4w1017we/eY=

ماسکو (صداۓ روس)

کریملن کے مشیر یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ روس تنازع ختم ہونے کے بعد سلامتی انتظامات پر بات چیت کے لیے امریکا اور یوکرین کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ اعلان بدھ کو سینٹ پیٹرزبرگ کے کانسٹنٹائن پیلس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان تقریباً تین گھنٹے کی بات چیت کے بعد سامنے آیا۔ جیرڈ کشنر بیماری کے باعث سفر نہ کر سکنے پر ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اوشاکوف کے مطابق پوتن نے وٹکوف کو بتایا کہ ماسکو اصولی طور پر نومبر کے وسط میں سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، جن کا مرکزی موضوع روس اور یوکرین کے لیے جنگ کے بعد کا سلامتی نظام ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وٹکوف نے اشارہ دیا کہ ٹرمپ اس تجویز کا خیرمقدم کریں گے۔

کریملن کے مشیر نے بتایا کہ سہ فریقی مذاکرات بحال کرنے کی سابقہ کوششیں اس وجہ سے ناکام ہوئیں کہ روس کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے دوران کیف نے ماسکو اور دیگر شہروں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ ان کے مطابق ووٹنگ کے مرکزی دن پولنگ اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا گیا اور الیکشن کمیشن کا عملہ ہلاک ہوا۔ تاہم اوشاکوف کے بقول امریکیوں سے موصول ہونے والے اشاروں کو مدنظر رکھتے ہوئے صورتحال کا اب دوبارہ جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پوتن نے ٹرمپ، ان کی انتظامیہ اور خصوصی نمائندوں کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا جو باہمی طور پر قابل قبول حل کی تلاش میں کی جا رہی ہیں۔

روسی صدر نے رابطہ لائن کی صورتحال کی معروضی تصویر بھی پیش کی، جس کے مطابق روسی افواج کو مکمل اسٹریٹجک پہل حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کی افواج تمام اہم محاذوں پر بلا تعطل پیش قدمی کر رہی ہیں اور یوکرین میں فوجی صنعتی، توانائی اور لاجسٹک تنصیبات کو مؤثر طور پر تباہ کر رہی ہیں۔

یوکرین کے علاوہ شرکا نے اکتوبر کے ڈیزل معاہدے پر بھی گفتگو کی، جس کے تحت واشنگٹن نے روسی ایندھن کی برآمدات پر پابندیاں نرم کیں۔ دونوں فریقوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ان کے مفادات کے مطابق ہے اور عالمی ایندھن منڈیوں کو مستحکم کرنے میں مدد دے گا۔ اوشاکوف نے مزید کہا کہ دیگر مشترکہ اقتصادی منصوبے بھی عملدرآمد کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان آخری مذاکرات فروری میں جنیوا میں ہوئے تھے، جو ابوظہبی میں دو ادوار کے بعد منعقد ہوئے۔ تاہم امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد، جس سے متحدہ عرب امارات تک رسائی متاثر ہوئی، مزید مذاکرات روک دیے گئے۔

اوشاکوف نے روسی میڈیا کو بتایا کہ ابوظہبی کو دوبارہ مذاکرات کے ممکنہ مقام کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے، جبکہ پوتن نے ابھی مستقبل کے روسی وفد کے ارکان کا انتخاب نہیں کیا۔ صحافیوں کے اس سوال پر کہ کیا یوکرین تنازع اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے، اوشاکوف نے کہا کہ یہ اسی سمت میں بڑھ رہا ہے۔