ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برازیل میں صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں صدر لولا ڈا سلوا نے کامیابی حاصل کر لی ہے اور وہ چوتھی بار صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ انتخابی حکام کے مطابق بائیں بازو کے لولا ڈا سلوا نے دائیں بازو کے امیدوار بولسونارو کو شکست دی۔ لولا کو 51.75 فیصد جبکہ بولسونارو کو 48.25 فیصد ووٹ ملے۔لولا کا مقابلہ دائیں بازو کے سینیٹر فلاویو بولسونارو سے تھا، جو سابق صدر جائر بولسونارو کے بڑے بیٹے ہیں۔ دونوں کے درمیان فرق تقریباً 43 لاکھ ووٹوں کا رہا۔ 4 اکتوبر کو ہونے والے پہلے مرحلے میں فلاویو بولسونارو 47.03 فیصد ووٹ لے کر آگے رہے تھے جبکہ لولا کو 45.16 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس طرح لولا برازیل میں 1989 میں براہ راست صدارتی انتخابات کی بحالی کے بعد پہلے امیدوار بن گئے ہیں جو پہلے مرحلے میں پیچھے رہنے کے بعد دوسرے مرحلے میں کامیاب ہوئے۔
اتوار کو سپریم کورٹ کی جانب سے آخری لمحات میں کیے گئے انتہائی غیر معمولی اقدام کے بعد نقل و حمل کے مسائل کے باعث ووٹنگ کے وقت میں دو گھنٹے کی توسیع کر دی گئی تھی۔ لولا اس وقت تقریباً 81 برس کے ہیں۔ اس کامیابی کے بعد 2030 کے اختتام تک ان کا مجموعی دور اقتدار 16 برس ہو جائے گا۔ ان کی جیت کے بعد لاطینی امریکا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک، برازیل اور میکسیکو، دونوں میں بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے رہنما برسر اقتدار ہیں۔ رپورٹس کے مطابق فلاویو بولسونارو نے انتخابی نتائج تسلیم نہیں کیے، جبکہ لولا نے ووٹرز کا شکریہ ادا کیا۔