ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمنی میں گزشتہ سال تقریباً تین دہائیوں کے دوران خودکشیوں کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی ہے۔ وفاقی شماریاتی دفتر کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 11,334 افراد نے خودکشی کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 962 کیسز یا 9.3 فیصد زیادہ ہیں اور 1998 کے بعد سب سے بلند سطح ہے ۔
یہ تعداد ٹریفک حادثات، قتل، غیر قانونی منشیات سے ہونے والی اموات اور ایڈز سے ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق خودکشی کرنے والوں میں مردوں کا حصہ 69.2 فیصد رہا، تاہم اضافہ غیر متناسب طور پر خواتین میں زیادہ رہا، جن کی اموات میں 17.9 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مردوں میں یہ شرح 5.8 فیصد رہی ۔
جرمنی کے نیشنل سوسائیڈ پریونشن پروگرام کے تجزیے کے مطابق 2021 کے بعد سے سالانہ تعداد میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم یہ اب بھی 1981 کی تاریخی بلند ترین سطح 18,825 سے کم ہے۔ خودکشیوں کی اکثریت یعنی 73.7 فیصد 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں ریکارڈ کی گئی۔
طریقہ کار کے لحاظ سے پھانسی لینا سب سے عام طریقہ یعنی 4,145 کیسز رہا، تاہم اس کے بعد ادویات سے خودکشی کے کیسز 2,848 ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے جب یہ تعداد 2,002 تھی۔ صرف اس زمرے میں سالانہ اضافے کا تقریباً 88 فیصد حصہ ہے ۔
اعداد و شمار جرمن نوجوانوں میں بھی خودکشی کی اموات میں اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: 15 سے 19 سال کی لڑکیوں میں یہ تعداد 2024 میں 52 سے بڑھ کر 2025 میں 84 ہو گئی، جبکہ نوعمروں میں مجموعی تعداد 188 سے 208 تک پہنچ گئی۔ پانچ سے 24 سال کی عمر کے افراد میں تمام اموات کا تقریباً 18 فیصد خودکشی کی وجہ سے تھا ۔
جرمن حکومت نے اس ڈرامائی اضافے کی حتمی وجہ نہیں بتائی، تاہم متعدد ماہرین نے اسے معاون خودکشی کے پھیلاؤ سے جوڑا ہے۔ تین بڑی تنظیموں نے گزشتہ سال 1,287 معاون خودکشیوں کی اطلاع دی، جو 2024 میں 977 اور 2021 میں صرف 346 تھیں۔ جرمنی کا قانونی فریم ورک ایسے افراد کے لیے بھی معاون خودکشی کی اجازت دیتا ہے جو لاعلاج بیماری میں مبتلا نہیں ہیں ۔
جرمن ڈپریشن ایڈ اینڈ سوسائیڈ پریونشن فاؤنڈیشن کے چیئرمین الریخ ہیگرل نے اس معاملے پر ملک کے “انتہائی موقف” پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ “جب معاون خودکشی ایک سروس کے طور پر معمول بن جاتی ہے تو یہ حد کم ہو جاتی ہے اور المناک، قابلِ روک تھام خودکشیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے” ۔
فرینکفرٹ کی گوئٹے یونیورسٹی کی خودکشی محقق اوٹے لیویتزکا نے ایک اور وضاحت پیش کرتے ہوئے اس اضافے کو بحرانی کیفیت قرار دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کمزور افراد میں خودکشی کے خیالات کو تیز کر سکتی ہے، جبکہ سوشل میڈیا بھی اس میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیویتزکا نے جرمنی میں نفسیاتی نگہداشت تک ناکافی رسائی پر بھی تنقید کی ۔