ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی ریاست نیو جرسی کی گورنر مکی شیرل نے کہا ہے کہ وہ اپنی ریاست میں روسی ڈیزل کی کھیپ کی ترسیل روکنے کے طریقوں پر غور کر رہی ہیں۔ نیو جرسی امریکہ کی مشرقی ساحل پر تیل کی درآمد اور تقسیم کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
ڈیموکریٹک گورنر نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ وہ نیو جرسی کی بندرگاہ پر روسی ڈیزل کی آمد روکنے کے اختیارات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے۔ شیرل نے ٹرمپ-پوتن ڈیزل معاہدے کو بدعنوان اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکی صارفین اور امریکہ کے جمہوری اتحادی یوکرین کی قیمت پر روسی صدر کی جیبیں بھری جا رہی ہیں۔
یہ بیان 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے، جب امریکی ووٹرز سینیٹ کے ایک تہائی اور ایوان نمائندگان کے تمام ارکان کا انتخاب کریں گے۔ اس وقت ریپبلکن دونوں ایوانوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نووک نے منگل کے روز کہا تھا کہ ماسکو برآمد کے لیے ڈیزل لے جانے والے تین ٹینکر روانہ کر چکا ہے اور چوتھا جمعرات کو روانہ ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان جہازوں کو امریکہ میں اتارنے سے روکا جا سکتا ہے، تو نووک نے امریکی سیاستدانوں کی روس کے ساتھ ڈیزل معاہدے کی مخالفت پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اپنے ہی شہریوں اور امریکہ کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کے ارکان نے پہلے ہی امریکہ کو روسی ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے پر عمل درآمد روکنے کے لیے قانون سازی پیش کی ہے۔ ایکسیوس کے مطابق کانگریس کے ارکان کاروباری اداروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں تاکہ وہ اس معاہدے میں حصہ لینے سے باز رہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ٹرمپ نے 9 اکتوبر کو ٹیلیفونک گفتگو میں دیگر امور کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی پر بھی بات چیت کی تھی۔ پوتن نے کہا تھا کہ ماسکو نے امریکہ اور عالمی منڈیوں کو تیل اور پٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے کی اپنی آمادگی کا اعادہ کیا ہے۔