ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
پولینڈ نے روس کے کیلنن گراڈ علاقے سے ملحقہ سرحد پر اپنے خصوصی دستے تعینات کر دیے ہیں، یہ اقدام ممکنہ تخریب کاری کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ایک بڑے پولیس آپریشن کا حصہ ہے۔
پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے کابینہ کے اجلاس سے قبل اعلان کیا کہ ملک نے جی آر او ایم (GROM) خصوصی آپریشن یونٹ کے ارکان کو کیلنن گراڈ کی سرحد پر تعینات کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس علاقے میں نمایاں پولیس، بارڈر گارڈ اور انسداد دہشت گردی دستے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹسک کے مطابق یہ فیصلہ پولینڈی اور غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا جن میں “تخریب کاری اور اشتعال انگیزی کی کارروائیوں” کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا تھا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ پولینڈ کے پولیس سربراہ ماریک بورون نے بتایا کہ ملک کے دیگر علاقوں سے اضافی دستے سرحدی علاقے میں بھیجے گئے ہیں تاکہ کیلنن گراڈ کی سرحد کے ساتھ “تخریب کاری سے نمٹنے” کے آپریشن کو یقینی بنایا جا سکے۔ ٹسک نے کہا کہ گزشتہ رات سرحدی علاقے میں فلیش لائٹس لے کر گھومتے افراد کی حرکت دیکھی گئی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ واقعہ واقعی کوئی اشتعال انگیزی تھی۔
روسی سفارت خانے نے اس سے قبل وارسا میں کہا تھا کہ پولینڈ کے معلوماتی ماحول میں عسکریت پسندانہ بیان بازی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں “ممکنہ تخریب کاری” سے متعلق جعلی خبریں بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ پولینڈ اور روس کے کیلنن گراڈ علاقے کے درمیان تقریباً 232 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ کیلنن گراڈ پولینڈ اور لتھوانیا کے درمیان واقع روسی علاقہ ہے جسے “ماسکو کا ناقابلِ ڈوبنے والا طیارہ بردار جہاز” بھی کہا جاتا ہے۔