ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ کینیڈا روسی کھلاڑیوں کو ورلڈ جونیئر ہاکی چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے ویزا جاری نہیں کرے گا، یہ ٹورنامنٹ رواں سال کے آخر اور اگلے سال کے آغاز میں کینیڈا میں منعقد ہوگا۔ سی ٹی وی نیوز چینل کے مطابق کارنی نے کہا کہ اگر آپ خاص طور پر ورلڈ جونیئرز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو روسی وہاں نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ ہم خود کر رہے ہیں۔ کارنی نے یہ بیان اتوار کو کامن ویلتھ سربراہ اجلاس کے موقع پر انٹیگوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک روس اور بیلاروس یوکرین میں جنگ کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں، ان ممالک کے کھلاڑی کینیڈا میں اپنے ملک کی نمائندگی نہیں کر سکیں گے۔
کینیڈا کی وفاقی حکومت نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنے امیگریشن اختیارات استعمال کرتے ہوئے روسی اور بیلاروسی کھلاڑیوں اور اہلکاروں کو کینیڈا میں داخلے سے روکے گی تاکہ وہ قومی نشانات کے تحت مقابلہ نہ کر سکیں۔ حکومت نے واضح کیا کہ یہ اقدام روسی اور بیلاروسی عوام کے خلاف نہیں بلکہ ان حکومتوں کو بین الاقوامی کھیلوں کے ایونٹس کو ریاستی نمائندگی، سیاسی جواز اور پروپیگنڈے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے سے روکنے کے لیے ہے۔
یہ پیش رفت کھیلوں کے ثالثی عدالت (سی اے ایس) کے اس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں بین الاقوامی آئس ہاکی فیڈریشن کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ روسی قومی ٹیموں کو بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی اجازت دے۔ سی اے ایس نے 30 اکتوبر کو یہ حکم دیا تھا، جس کے بعد جرمنی، چیک جمہوریہ، سویڈن اور ناروے کی ہاکی فیڈریشنوں نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ فن لینڈ کی آئس ہاکی ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ وہ ان ممالک کا ایک گروپ بنا رہی ہے جو روس کے خلاف میچوں کا بائیکاٹ کریں گے۔ اس سے قبل فن لینڈ، سویڈن، چیک جمہوریہ، ناروے، لٹویا اور ڈنمارک یوکرین میں جنگ کے دوران روس کے خلاف کھیلنے سے انکار کا اعلان کر چکے ہیں۔ کارنی نے کہا کہ ہم فن لینڈ، چیک، سویڈن اور دیگر ممالک کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، لیکن یہ فیصلہ ہم خود کر رہے ہیں۔
ہاکی کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی آئس ہاکی فیڈریشن اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے تاکہ ٹورنامنٹ پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ ورلڈ جونیئر ٹورنامنٹ 26 دسمبر سے ایڈمنٹن اور ریڈ ڈیئر میں شروع ہوگا۔ واضح رہے کہ روس اور بیلاروس کو 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے بین الاقوامی ہاکی مقابلوں سے خارج رکھا گیا تھا۔ سی اے ایس کے فیصلے نے روسی ٹیموں کی 2026-27 کے سیزن میں واپسی کا راستہ کھول دیا ہے۔