ماسکو نے ابوظہبی سہ فریقی مذاکرات میں روسی وفد کی قیادت کا اعلان کر دیا

Moscow Moscow

ماسکو (صداۓ روس)
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے اعلان کیا کہ روسی صدارتی معاون ولادیمیر میڈنسکی ابوظہبی میں یوکرینی تنازعے کے حوالے سے ہونے والے سہ فریقی مذاکرات میں روسی وفد کی قیادت کریں گے۔ پیسکوف کے مطابق میڈنسکی اس عمل میں روسی فریق کے “چیف مذاکرات کار” رہیں گے، اور وفد میں وزارت خارجہ سمیت مختلف محکموں کے نمائندے شامل ہوں گے، تاہم روسی صدر ولادیمیر پوتن نے تاحال وفد کی حتمی ترکیب کا تعین نہیں کیا۔

میڈنسکی ایک تجربہ کار مذاکرات کار ہیں جنہوں نے 2022 میں ترکیہ میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات اور 2025 میں امریکی ثالثی کے تحت ہونے والے امن عمل کے متعدد مراحل میں روسی وفود کی قیادت کی ہے۔ ماسکو کے اس اعلان کے ساتھ ہی امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے نئی round کے مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ورکنگ لیول کی یہ ملاقات “جنگ کے بعد سلامتی کے انتظامات، کشیدگی میں کمی، انسانی کوششوں اور امن کی جانب اگلے اقدامات” پر مرکوز ہوگی۔ رائٹرز کے مطابق امریکی وفد کی قیادت وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کریں گے۔ وٹکوف نے یہ بھی بتایا کہ امریکی مذاکرات کار اس ہفتے برسلز میں فرانس، جرمنی، برطانیہ، یورپی یونین اور نیٹو کے حکام سے ملاقات کریں گے تاکہ یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانتوں، یورپ کے جنگ کے بعد سلامتی کے ڈھانچے اور تعمیر نو کے اقتصادی مواقع پر بات چیت کی جا سکے۔

تاہم ماسکو نے یورپی ممالک کی سہ فریقی مذاکرات میں براہ راست شرکت کو مسترد کر دیا ہے۔ پیسکوف نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات طے شدہ سہ فریقی فارمیٹ میں ہوں گے جس میں روس، یوکرین اور ثالث کی حیثیت سے امریکہ شامل ہیں، اور یورپی ممالک کی شمولیت ممکن نہیں۔ ماسکو کی جانب سے یورپی شرکت کی مخالفت کی وجہ ماضی کے معاہدوں بشمول منسک معاہدوں کی پاسداری میں ناکامی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ روسی حکام کا موقف ہے کہ یورپی ممالک نے ماضی میں ثالثی میں اپنی ساکھ کھو دی ہے۔ واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان امریکی ثالثی میں رواں سال کے آغاز میں متحدہ عرب امارات اور سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے، تاہم فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی مہم کے باعث یہ عمل متاثر ہوا تھا۔ واشنگٹن نے ستمبر میں سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کیں۔