ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
پاکستان کی قیادت نے دو برس تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے قریب کرنے کی کوشش کی، تاہم منگل کو کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد اب وہ وائٹ ہاؤس تک اپنی رسائی کی جانچ پڑتال کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ دوسری جانب عام پاکستانی اس نتیجے کو مختلف نظر سے دیکھتے ہیں، اور بہت سے لوگوں کو امید ہے کہ واشنگٹن میں تبدیلی ایران پر امریکا اسرائیل جنگ سے بڑھنے والے مہنگائی کے بحران میں کمی لائے گی۔
رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے انتخابات کے بعد رہائشیوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ واشنگٹن میں تبدیلی کا اثر جلد اس درآمدات پر انحصار کرنے والے جنوبی ایشیائی ملک میں محسوس کیا جائے گا، جس کی آبادی 24 کروڑ سے زائد ہے اور جہاں جنگ کے باعث بڑھی تیل کی قیمتوں کا بوجھ بیشتر گھرانوں پر پڑ رہا ہے۔ کراچی کے رہائشی سجاد علی نے کہا کہ ان کے خیال میں موجودہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ بامعنی مذاکرات ممکن نہیں اور جاری خونریزی اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک امریکی حکومت میں تبدیلی نہ آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم امن، معاشی بہتری اور تیل کی بڑھتی قیمتوں میں کمی چاہتے ہیں۔ کراچی ہی کے آصم ظفر نے کہا کہ انہیں امید ہے نتائج ٹرمپ کو قابو میں رکھیں گے، اور اس سے اہم پالیسیوں میں تبدیلی آ سکتی ہے اور شاید مسلم ممالک کے خلاف ہونے والی بعض ناانصافیاں روکنے میں مدد ملے۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی حکومت اور طاقتور عسکری قیادت کے لیے یہ نتیجہ کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔ ایران جنگ میں ثالثی پر منتج ہونے والی ٹرمپ کو راغب کرنے کی پاکستانی کوششوں سے اسے ان کی انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلق حاصل ہوا، مگر اس رسائی سے اب تک واضح معاشی فوائد حاصل نہیں ہوئے، اور اب اسلام آباد کے ٹرمپ کے اندرونی حلقے کے ساتھ معاملات کی کانگریسی جانچ ان ثمرات کو خطرے میں ڈال رہی ہے جن کی پاکستانی قیادت کو توقع تھی۔
یہ کوششیں ٹرمپ کی دوسری مدت کے آغاز میں شروع ہوئیں، جن میں آرمی چیف عاصم منیر اسلام آباد کا وائٹ ہاؤس تک رسائی کا مرکزی ذریعہ رہے، جنہیں ٹرمپ بار بار اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل کہہ چکے ہیں۔ جون 2025 میں ان کا لنچ غیر معمولی طور پر پاکستانی سول حکام کی غیر موجودگی میں ہوا، جس نے اس قربت میں فوج کو مرکزی حیثیت دی۔ پاکستانی فوج کے مطابق ان مذاکرات کا دائرہ سلامتی سے آگے بڑھ کر کان کنی، توانائی اور کرپٹو کرنسی میں تعاون تک پہنچا۔ اس کے بعد پاکستان ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہوا اور انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا، اور مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ تنازع ختم کرانے میں ان کے کردار کو سراہا، جبکہ نئی دہلی اس بات کی تردید کرتی ہے کہ امریکی ثالثی نے لڑائی روکی۔
رواں سال کے آغاز میں ایران کے معاملے پر ثالثی نے اس قربت کو اسٹریٹجک معنویت دی۔ اسلام آباد نے پیغامات پہنچائے اور اپریل میں امریکا اور ایران کے مذاکرات کی میزبانی کی، تاہم بالآخر طے پانے والا اسلام آباد معاہدہ جلد ہی ڈگمگا گیا۔ صارفین کے لیے پاکستان کے بڑھتے سفارتی اثر و رسوخ نے جنگ کی قیمت سے بہت کم تحفظ دیا، جبکہ ریاست کو ملنے والا فائدہ بھی کم رہا۔ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے دسمبر 2025 میں پاکستان کے ریکوڈک تانبے اور سونے کے منصوبے کے لیے 1.25 ارب ڈالر کی منظوری دی، لیکن امریکی خزانے کی سہولت کے لیے پاکستان کی 10 ارب ڈالر کی درخواست کا جواب ابھی تک نہیں آیا۔
پاکستان کی عوامی اور نجی سطح کی کوششیں اب سیاسی خطرے کی حامل ہیں، کیونکہ کئی معاملات میں ٹرمپ کا خاندان یا قریبی ساتھی شامل ہیں۔ اسلام آباد نے ٹرمپ سے منسلک ورلڈ لبرٹی فنانشل کے جاری کردہ اسٹیبل کوائن یو ایس ڈی ون میں ادائیگیوں کے امکان کا جائزہ لینے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ جنوری میں دستخط کے موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ جدت کو ضابطے، استحکام اور قومی مفاد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اس نے مین ہیٹن کے روزویلٹ ہوٹل کی ازسرنو تعمیر کے لیے ایک اور مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے ہیں، جس کی بات چیت ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کی، اور پاورس کو ڈرونز کا محدود آرڈر بھی دیا ہے، جس کے سرمایہ کاروں میں ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ جونیئر اور ایرک شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ستمبر میں پاورس کے بارے میں سوال پر رائٹرز کو بتایا تھا کہ مفادات کا کوئی ٹکراؤ نہیں۔
واشنگٹن میں سابق پاکستانی سفیر اور ابوظہبی کی انور گرگاش ڈپلومیٹک اکیڈمی کے سینئر فیلو حسین حقانی کے مطابق پاکستانی قیادت نے ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ لین دین پر مبنی تعلق قائم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کے دوستوں اور رشتہ داروں سے متعلق بعض انتظامات شاید برقرار نہ رہ سکیں، اور پاکستان اس جانچ کے لیے مکمل طور پر تیار نظر نہیں آتا۔ واشنگٹن کے اسٹمسن سینٹر کے سینئر فیلو ڈینیئل مارکی نے خبردار کیا کہ اگر معاملات نجی مفادات سے چلتے دکھائی دیے تو تحقیقات وسیع تر تعلق کو داغدار کر سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے پاس اب بھی کھیلنے کے لیے کچھ پتے ہو سکتے ہیں۔ اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کوگل مین نے کہا کہ پاکستان کا انسداد دہشت گردی تعاون اور ایران کے ساتھ سفارت کاری دونوں جماعتوں کی حمایت رکھتی ہے، اور ڈیموکریٹس مسئلہ زدہ معاہدوں کا الزام پاکستان کے بجائے ٹرمپ پر ڈالنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق پاکستان کے لیے خطرہ یہ ہے کہ اس نے اپنے بہت سے سفارتی انڈے وائٹ ہاؤس کی ٹوکری میں رکھ دیے ہیں، اور ڈیموکریٹس کے لیے اس کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔