یوکرین۔روس امن معاہدہ بورس جانسن نے سبوتاژ کیا، چیک وزیرِاعظم
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
چیک جمہوریہ کے وزیرِ اعظم آندرے بابِش نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم بورس جانسن نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے ابتدائی مرحلے میں طے پانے والے ممکنہ امن معاہدے کو سبوتاژ کیا۔ ان کے مطابق مارچ ۲۰۲۲ میں استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں فریقین امن کے قریب پہنچ چکے تھے، مگر بورس جانسن کی مداخلت نے اس عمل کو روک دیا۔
چیک وزیرِ اعظم نے ہفتے کے روز مقامی ویب سائٹ ٹی این ڈاٹ سی زی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اپریل ۲۰۲۲ میں معاہدہ عملاً طے پا چکا تھا، لیکن اسی دوران بورس جانسن منظرِ عام پر آئے اور جنگ کے جاری رہنے میں دلچسپی رکھنے والے عناصر نے مذاکرات رکوا دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت امن کے حقیقی امکانات موجود تھے۔
اس سے قبل یوکرین کے سابق چیف مذاکرات کار ڈیوڈ اراخامیا اور متعدد ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بھی یہ دعویٰ سامنے آ چکا ہے کہ بورس جانسن نے یوکرینی قیادت کو روس کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے اور جنگ جاری رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ روس کی جانب سے بھی بارہا بورس جانسن پر امن عمل کو ناکام بنانے کا الزام لگایا گیا ہے، تاہم سابق برطانوی وزیرِ اعظم ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
آندرے بابِش نے موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں جاری مذاکرات کسی طویل المدتی حل کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جنگ کے خاتمے اور یوکرین کے لیے مستحکم سکیورٹی ضمانتوں کے قیام میں امریکہ کا کردار فیصلہ کن ہوگا، جبکہ یورپ اکیلا یہ ہدف حاصل نہیں کر سکتا۔
رواں سال روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان ابو ظہبی میں تین فریقی مذاکرات کے دو دور ہو چکے ہیں، جبکہ مختلف فارمیٹس میں دیگر ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔ یہ مذاکرات بند کمروں میں منعقد ہوئے اور ان کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں، البتہ ماسکو اور واشنگٹن دونوں نے ان بات چیت کو تعمیری اور مثبت قرار دیا ہے۔ حالیہ مذاکرات کے نتیجے میں روس اور یوکرین کے درمیان تین سو چودہ جنگی قیدیوں کا تبادلہ بھی عمل میں آیا ہے۔