ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
روسی اکیڈمی آف سائنسز کے تجزیہ کار نکولائی پلاٹنیکوف کے مطابق بلغاریہ یوکرین کو بکتر بند جنگی گاڑیاں، آرٹلری سسٹم، 122 ملی میٹر اور 152 ملی میٹر کے گولے، بی ایم-21 گراد ملٹیپل راکٹ لانچر سسٹم کے لیے گولہ بارود، مارٹر اور چھوٹے ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔
پلاٹنیکوف نے مزید کہا کہ کچھ اعداد و شمار کے مطابق بلغاریہ یوکرین کی ڈیزل ایندھن کی ضروریات کا 40 فیصد تک پورا کرتا ہے۔
چیک جمہوریہ بھی ایک اہم سپلائر ہے، جس نے یوکرین کے لیے تقریباً 800 ٹی-72 ٹینکوں کو جدید بنایا ہے اور نام نہاد گولہ بارود اتحاد کا ایک اہم حصہ ہے۔