ڈاکار اولمپکس 2026: عالمی کھیلوں کی سیاست

خصوصی تجزیاتی رپورٹ | اشتیاق ہمدانی

افریقی ملک سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار میں 31 اکتوبر سے 13 نومبر 2026 تک جاری یوتھ اولمپک گیمز عالمی کھیلوں کی تاریخ میں ایک غیر معمولی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ افریقی براعظم اولمپک مقابلوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ تاہم اس تاریخی کامیابی کے پس منظر میں عالمی کھیلوں کی سیاست، روسی کھلاڑیوں کی بین الاقوامی مقابلوں میں واپسی، کھیلوں کی تنظیموں کے مختلف فیصلوں اور افریقی ممالک کے معاشی و سماجی مستقبل سے متعلق کئی اہم سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بظاہر یہ مقابلے نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کے اظہار اور مختلف ممالک کے درمیان کھیلوں کے ذریعے روابط مضبوط بنانے کا موقع ہیں، لیکن ان کے سیاسی اور معاشی پہلو بھی عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

ڈاکار اولمپکس کی ایک اہم پیش رفت روس کے 13 نوجوان کھلاڑیوں کی قومی پرچم اور ترانے کے ساتھ شرکت ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے عالمی کھیلوں میں روسی کھلاڑیوں کی شرکت مختلف پابندیوں اور شرائط سے مشروط رہی ہے۔ ایسے ماحول میں روسی وفد کی موجودگی کو بین الاقوامی کھیلوں میں روس کی واپسی کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس پیش رفت کو مکمل بحالی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ بین الاقوامی کھیلوں کی مختلف فیڈریشنز کے فیصلے اور بالغ کھلاڑیوں کے اولمپکس میں شرکت کے قواعد اب بھی یکساں نہیں ہیں۔

افریقی امور کے ماہر، سیاسی تجزیہ کار اور ٹیلی گرام چینل ’’مسکرائیے اور ہاتھ ہلائیے‘‘ کے مصنف وکٹر واسیلیف روسی کھلاڑیوں کی شرکت کو ایک مثبت مگر ابتدائی پیش رفت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے اولمپکس اور بالغ کھلاڑیوں کے روایتی اولمپک مقابلوں کے درمیان بنیادی فرق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ نوجوانوں کے مقابلوں میں شریک کھلاڑیوں کی تعداد، کھیلوں کے مراکز، تماشائیوں کی دلچسپی، مالی وسائل اور بین الاقوامی سیاسی اہمیت روایتی اولمپکس کے مقابلے میں نسبتاً کم ہوتی ہے۔

واسیلیف اس سلسلے میں پیرس اولمپکس 2024 اور ڈاکار یوتھ اولمپکس 2026 کا تقابل پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پیرس میں شریک کھلاڑیوں کی تعداد ڈاکار کے مقابلے میں تقریباً 4 گنا زیادہ تھی، جبکہ تمغوں کے مقابلوں کی تعداد بھی تقریباً 2.2 گنا زیادہ تھی۔ اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں مقابلوں کا عالمی اثر اور سیاسی پس منظر ایک جیسا نہیں۔ ان کے نزدیک روسی کھلاڑیوں کی ڈاکار میں شرکت یقیناً اہم ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ روسی کھلاڑیوں کو مستقبل کے تمام بین الاقوامی مقابلوں میں اسی نوعیت کی سہولتیں حاصل ہوں گی۔

روسی کھلاڑیوں کی شرکت کے حوالے سے واسیلیف ایک اور اہم پہلو کی نشاندہی کرتے ہیں، اور وہ مقابلوں کا جغرافیائی اور سیاسی ماحول ہے۔ ان کے مطابق افریقی ممالک کا روس کے ساتھ تاریخی تعلق یورپ اور امریکا سے مختلف نوعیت کا ہے۔ افریقہ کے متعدد ممالک میں روس کے ساتھ تعاون کو مثبت انداز میں دیکھا جاتا ہے، جس کی ایک وجہ نوآبادیاتی دور کی تاریخ اور عالمی تعلقات میں متبادل شراکت داری کی خواہش بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روسی کھلاڑیوں کی شرکت کے خلاف بعض مغربی ممالک میں ہونے والی سیاسی بحث افریقی میڈیا اور مقامی ماحول میں اسی شدت سے نمایاں نہیں ہوئی۔

تاہم افریقی ممالک کے مؤقف یکساں نہیں ہیں اور ہر ملک اپنی خارجہ پالیسی اور قومی مفادات کے مطابق روس کے ساتھ تعلقات استوار کرتا ہے۔ واسیلیف کے مطابق کسی بھی بین الاقوامی مقابلے میں روسی کھلاڑیوں کی شرکت کا انحصار اس کے جغرافیائی مقام، سیاسی ماحول اور منتظمین کی پالیسیوں پر ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں 2028 میں لاس اینجلس میں ہونے والے اولمپکس روسی کھلاڑیوں کے لیے ایک بالکل مختلف امتحان ثابت ہوں گے، کیونکہ وہاں سیاسی حالات، بین الاقوامی دباؤ اور کھیلوں کی تنظیموں کے فیصلوں کا پس منظر ڈاکار سے مختلف ہوگا۔

ڈاکار میں روسی کھلاڑیوں کی واپسی نے بین الاقوامی اولمپک تحریک کی سیاسی غیرجانبداری کے اصول پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عالمی کھیلوں کی تنظیمیں اصولی طور پر کھیلوں کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنے کی بات کرتی ہیں، لیکن عملی طور پر مختلف ریاستوں اور ان کے کھلاڑیوں کے بارے میں فیصلے ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے۔ اسی تناظر میں روس اور اسرائیل کے حوالے سے بین الاقوامی کھیلوں کی تنظیموں کے مختلف رویوں کا بھی تقابل کیا جا رہا ہے۔ ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر کسی ملک کی سیاسی یا فوجی کارروائیوں کی بنیاد پر کھیلوں میں پابندیوں کا جواز پیش کیا جاتا ہے تو کیا یہ اصول تمام ممالک پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے؟

وکٹر واسیلیف اس مسئلے کو افریقی ممالک کی تاریخی اور سیاسی سوچ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق افریقہ کے بعض سیاسی اور سماجی حلقوں میں یوکرین کی جنگ کو بنیادی طور پر یورپی سلامتی سے متعلق تنازع سمجھا جاتا ہے، جبکہ فلسطین کے مسئلے کو نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد، حقِ خودارادیت اور انسانی یکجہتی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افریقی معاشروں میں فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی کی تاریخی، سیاسی اور مذہبی وجوہات موجود ہیں، جن کی بنیاد پر غزہ کی صورتِ حال کو خصوصی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔

اس کی ایک نمایاں مثال جنوبی افریقہ ہے، جس نے 29 دسمبر 2023 کو اسرائیل کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کی روک تھام سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔ اس مقدمے نے فلسطین کے مسئلے پر جنوبی افریقہ کے مؤقف کو عالمی سطح پر نمایاں کیا، اگرچہ مقدمے میں لگائے گئے الزامات اور ان پر عدالت کے حتمی قانونی فیصلے کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

واسیلیف کے مطابق اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے افریقی ممالک کا مؤقف ان کی اپنی تاریخی جدوجہد سے بھی جڑا ہوا ہے۔ خاص طور پر جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف طویل جدوجہد نے وہاں کی سیاسی سوچ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں فلسطین کے مسئلے کو بھی انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت کی بحث سے منسلک کیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی اولمپک تحریک کی تاریخ میں جنوبی افریقہ پر عائد پابندیاں بھی ایک اہم مثال ہیں۔ نسلی امتیاز پر مبنی اپارتھائیڈ نظام کے باعث جنوبی افریقہ کو 1964 کے اولمپکس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ بعد ازاں 1970 میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے 35 کے مقابلے میں 28 ووٹوں سے جنوبی افریقہ کی اولمپک کمیٹی کو اپنی رکنیت سے خارج کر دیا۔ تقریباً تین دہائیوں تک جنوبی افریقہ کے کھلاڑی اولمپک مقابلوں سے باہر رہے اور بالآخر 1992 میں ملک میں بنیادی سیاسی تبدیلیوں اور نسلی امتیاز کے نظام کے خاتمے کی جانب پیش رفت کے بعد ان کی اولمپکس میں واپسی ممکن ہوئی۔

روس کا معاملہ قانونی اور انتظامی اعتبار سے جنوبی افریقہ کی تاریخی مثال سے مختلف ہے۔ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے 12 اکتوبر 2023 کو روسی اولمپک کمیٹی کی سرگرمیاں معطل کی تھیں۔ اس فیصلے کی وجہ روسی اولمپک کمیٹی میں ڈونیٹسک، لوگانسک، زاپوروزیے اور خیرسون کے علاقائی کھیلوں کے اداروں کو شامل کرنا تھا، جنہیں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی یوکرینی اولمپک کمیٹی کے دائرۂ اختیار میں شمار کرتی ہے۔

7 جولائی 2026 کو بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے روسی اولمپک کمیٹی کی معطلی عارضی طور پر اٹھانے کا فیصلہ کیا، تاہم اس کا مطلب روسی کھلاڑیوں کی تمام بین الاقوامی مقابلوں میں مکمل اور غیرمشروط بحالی نہیں تھا۔ مختلف کھیلوں کی عالمی فیڈریشنز اب بھی اپنے قواعد اور فیصلوں کے تحت روسی کھلاڑیوں کی شرکت کا تعین کر سکتی ہیں۔

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کا اصولی مؤقف یہ رہا ہے کہ کھلاڑیوں کو اپنی حکومتوں کے اقدامات کی بنیاد پر کھیلوں سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب یوکرینی حکام روسی کھیلوں کی مکمل بحالی کی مخالفت کرتے ہوئے جنگ، بین الاقوامی قانون اور انصاف کے مسائل کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ ان اختلافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید عالمی کھیلوں میں سیاسی غیرجانبداری کا اصول مسلسل آزمائش کا سامنا کر رہا ہے۔

ڈاکار اولمپکس کا ایک دوسرا اہم پہلو سینیگال کی معیشت اور مقامی آبادی پر ان مقابلوں کے ممکنہ اثرات ہیں۔ افریقی براعظم میں پہلی مرتبہ اولمپک مقابلوں کا انعقاد یقیناً ایک تاریخی کامیابی ہے، جس سے سینیگال کو اپنی ثقافت، انتظامی صلاحیتوں اور بین الاقوامی شناخت کو نمایاں کرنے کا موقع ملا ہے۔ تاہم بڑے کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کے ساتھ مالی اخراجات، تعمیراتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور مستقبل میں ان سہولیات کے استعمال سے متعلق سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔

سینیگال کو حالیہ برسوں میں قرضوں، مہنگائی، بے روزگاری اور روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات جیسے معاشی مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں بعض مقامی حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں پر خرچ ہونے والے وسائل سے عام شہریوں کو کس حد تک فائدہ پہنچے گا اور کیا یہ سرمایہ کاری طویل مدت میں ملک کی معاشی ترقی میں کردار ادا کر سکے گی؟

وکٹر واسیلیف ڈاکار اولمپکس کے طویل المدتی معاشی اور سماجی فوائد کے حوالے سے محتاط بلکہ تنقیدی مؤقف رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق بڑے عالمی مقابلوں کا انعقاد بذاتِ خود سرمایہ کاری، سیاحت یا کھیلوں کے فروغ کی ضمانت نہیں ہوتا۔ وہ اس خیال سے بھی اختلاف کرتے ہیں کہ افریقہ میں پہلی مرتبہ اولمپکس کے انعقاد سے براعظم میں مستقبل کے روایتی اولمپک مقابلوں کی میزبانی کی راہ خودبخود ہموار ہو جائے گی۔

واسیلیف کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر کسی بھی بڑے کھیلوں کے مقابلے کی کامیابی کو صرف اس کی افتتاحی تقریب، بین الاقوامی تشہیر یا تاریخی حیثیت کی بنیاد پر نہیں جانچنا چاہیے، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس کے اثرات عام شہریوں کی زندگیوں تک کس حد تک پہنچتے ہیں۔ ان کے مطابق سینیگال کی اکثریتی آبادی کے لیے روزگار، مہنگائی، بنیادی سہولیات اور معاشی تحفظ جیسے مسائل زیادہ فوری اہمیت رکھتے ہیں۔

وہ بعض مقابلوں میں تماشائیوں کی محدود موجودگی کو بھی عوامی دلچسپی کے حوالے سے ایک اہم اشارہ سمجھتے ہیں، اگرچہ اسے تمام مقابلوں میں تماشائیوں کی مجموعی صورتِ حال کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا خیال ہے کہ اگر اولمپکس کے بعد تعمیر ہونے والے میدان اور تربیتی مراکز عام نوجوانوں کی پہنچ سے باہر رہے تو ایسے منصوبوں کے سماجی فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔

تاہم بین الاقوامی اولمپک کمیٹی اور مقابلوں کے منتظمین ان کھیلوں کے مستقل فوائد کے حوالے سے مختلف منصوبوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ منتظمین کے مطابق ڈاکار 2026 کی تیاریوں کے سلسلے میں سینیگال کے 11 مقامی کھیلوں کے مراکز کی تعمیرِ نو اور بہتری کا کام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں 10 لاکھ سے زیادہ اسکول کے بچوں تک اولمپک اقدار سے متعلق تعلیمی پروگرام پہنچایا گیا، جبکہ تقریباً 300,000 نوجوان مختلف کھیلوں اور تعلیمی سرگرمیوں میں شریک ہوئے۔

ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقابلوں کی میزبانی کے ساتھ مقامی سطح پر کھیلوں کی سہولیات اور نوجوانوں کی شرکت بڑھانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ تاہم ان منصوبوں کی حقیقی کامیابی کا تعین آنے والے برسوں میں ہوگا، جب یہ واضح ہو سکے گا کہ تعمیر شدہ مراکز کتنے فعال رہتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کے لیے کتنے وسائل دستیاب ہوتے ہیں اور عام خاندانوں کے بچوں کو ان سہولیات سے کتنا فائدہ پہنچتا ہے۔

افریقہ میں کھیلوں کے فروغ کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ عام نوجوانوں کے لیے مناسب میدانوں، تربیتی مراکز، کھیلوں کے سامان اور پیشہ ور کوچز تک محدود رسائی بھی ہے۔ کئی ممالک میں بنیادی معاشی مسائل کے باعث والدین اپنے بچوں کی کھیلوں کی تربیت پر اضافی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ اولمپکس میں شامل متعدد کھیل ایسے ہیں جن سے مقامی نوجوانوں کی بڑی تعداد واقف نہیں یا جن کے لیے درکار سہولیات آسانی سے دستیاب نہیں۔

واسیلیف کے مطابق ایسے حالات میں کسی بڑے بین الاقوامی مقابلے کا انعقاد اس وقت تک پائیدار تبدیلی نہیں لا سکتا جب تک حکومتیں اور کھیلوں کی تنظیمیں بنیادی سطح پر نوجوانوں کو کھیلوں میں شامل کرنے کے لیے مسلسل اقدامات نہ کریں۔

ان کے نزدیک افریقی براعظم میں ایک کھیل ایسا ضرور ہے جسے غیر معمولی عوامی مقبولیت اور سماجی حیثیت حاصل ہے، اور وہ فٹ بال ہے۔ افریقہ کے بہت سے ممالک میں فٹ بال محض تفریح یا مقابلے کا ذریعہ نہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے بہتر مستقبل، معاشی ترقی اور بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کا ایک ممکنہ راستہ سمجھا جاتا ہے۔

یورپی اور دیگر بین الاقوامی کلبوں میں کامیابی حاصل کرنے والے افریقی کھلاڑی اپنے آبائی ممالک میں قومی ہیروز کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ ان کی کامیابیوں کو نوجوان نسل کے لیے امید اور جدوجہد کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بہت سے نوجوان یہ تصور کرتے ہیں کہ فٹ بال کے میدان میں کامیابی انہیں معاشی مشکلات سے نکلنے اور اپنے خاندانوں کے حالات بہتر بنانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔

واسیلیف کے مطابق افریقہ میں فٹ بال کو حاصل ہونے والی غیر معمولی مقبولیت اسے دوسرے اولمپک کھیلوں سے الگ مقام دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فٹ بال افریقی معاشروں میں ایک ایسی ثقافتی اور سماجی حقیقت بن چکا ہے جس کا اثر صرف کھیلوں کے میدان تک محدود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر کھیلوں میں مقامی نوجوانوں کی دلچسپی پیدا کرنے کے لیے محض بین الاقوامی مقابلوں کا انعقاد کافی نہیں ہوگا بلکہ بنیادی سطح پر مستقل سرمایہ کاری اور تربیتی نظام کی ضرورت ہوگی۔

ڈاکار یوتھ اولمپکس 2026 ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہے ہیں جب عالمی کھیلوں کی تنظیمیں سیاسی تنازعات، مختلف ممالک پر پابندیوں، کھلاڑیوں کے حقوق اور مقابلوں کی میزبانی سے پیدا ہونے والے معاشی فوائد جیسے پیچیدہ سوالات کا سامنا کر رہی ہیں۔ روسی کھلاڑیوں کی قومی پرچم اور ترانے کے ساتھ واپسی بین الاقوامی کھیلوں میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ مختلف کھیلوں کی عالمی تنظیموں کی پالیسیاں اب تک مکمل طور پر یکساں نہیں ہو سکیں۔

اسی طرح افریقہ میں اولمپکس کا تاریخی آغاز براعظم کے لیے نئی امیدوں اور امکانات کی علامت ہے، مگر ان امیدوں کو حقیقی کامیابی میں تبدیل کرنا ایک طویل اور مسلسل عمل ہوگا۔ اگر ڈاکار اولمپکس کے بعد سینیگال میں کھیلوں کے میدان، تربیتی مراکز اور تعلیمی منصوبے مستقل بنیادوں پر فعال رہتے ہیں تو یہ مقابلے نوجوان نسل کے مستقبل پر مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر ان کی اہمیت زیادہ تر ایک تاریخی اعزاز اور بین الاقوامی تشہیر تک محدود رہنے کا خدشہ موجود رہے گا۔

یوں ڈاکار اولمپکس محض تمغوں، مقابلوں اور افتتاحی تقریبات کا نام نہیں بلکہ عالمی کھیلوں میں طاقت، سیاست، غیرجانبداری اور معاشی ترقی کے باہمی تعلق کو سمجھنے کا ایک اہم موقع بھی ہیں۔ روس کے لیے یہ بین الاقوامی کھیلوں میں واپسی کے ایک نئے مرحلے کی علامت ہیں، جبکہ افریقہ کے لیے یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ اولمپک میزبانی صرف عالمی اعزاز نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

ڈاکار کے میدانوں میں کامیاب ہونے والے نوجوان کھلاڑیوں کو تمغے ضرور ملیں گے، لیکن سینیگال اور افریقہ کی اصل کامیابی کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ کھیلوں کے اختتام کے بعد کتنے نوجوانوں کو بہتر تربیت، جدید سہولیات اور اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے نئے مواقع میسر آتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جو ڈاکار اولمپکس 2026 کی تاریخی اہمیت کے ساتھ مستقبل میں بھی وابستہ رہے گا۔