ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
لٹویا کے قانون سازوں نے آئین میں ترمیم کی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت ملک میں نیوکلیئر ہتھیاروں کی میزبانی پر پابندی ختم کی جا سکے گی۔ سیئیماس کے 141 ارکان میں سے 51 کی حمایت سے یہ تجویز فارملی رجسٹر ہو گئی ہے۔ یہ بل آئین کے آرٹیکل 137 کو ختم کرے گا جو بڑے پیمانے پر تباہی والے ہتھیاروں اور غیر ملکی فوجی اڈوں کی میزبانی پر پابندی لگاتا ہے۔ صدر گیتاناس ناوسیدا نے اسے “فرسودہ” پابندی قرار دیتے ہوئے ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ “اگر مستقبل میں نئی صورتحال پیدا ہو تو لٹویا کو خود پر پابندیاں نہیں لگانی چاہییں۔”