ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے یورپی رہنما کیف میں موجودہ جارحانہ روس مخالف حکومت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لاوروف نے کہا کہ وہ سیاستدان بھی جو تسلیم کرتے ہیں کہ کیف فوجی طور پر ان سابق یوکرینی علاقوں کو واپس نہیں لے سکتا جو 2014 کے بعد روس میں شامل ہوئے، اور اب جنگ بندی کی وکالت کر رہے ہیں، روس اور اس کے شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب اور اطالیہ کی وزیراعظم جارجیا میلونی کا نام لیا۔ لاوروف نے کہا کہ مجوزہ جنگ بندی بھی صرف وقت حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے، اور یوکرینی صدر زیلنسکی اسے چھپا نہیں رہے کیونکہ وہ مزید ہتھیاروں کی فراہمی چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس چال کا مقصد کیف میں موجودہ حکومت کو برقرار رکھنا ہے، جس کی خصوصیات نازی ازم، جارحانہ روس مخالف رویہ، انسانی حقوق، زبان اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزیاں ہیں۔ لاوروف نے کہا کہ روس کی جنگ کو منجمد کرنے پر اعتراضات اور یوکرین میں نیٹو فوجیوں کی تعیناتی کی تجاویز کی مخالفت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ وردی میں کوئی بھی شخص اور کوئی بھی فوجی سہولت ہمارے لیے جائز ہدف ہوگی.