ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے 2015 میں طے پانے والے مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کو “تاریخ کے بدترین معاہدوں میں سے ایک” قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے ٹیکساس میں ریپبلکن وسط مدتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بارک اوبامہ نے جوہری معاہدہ کیا، جو تاریخ کے بدترین معاہدوں میں سے ایک تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایران کے لیے جوہری ہتھیار تک پہنچنے کا راستہ تھا۔ جرمنی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان نے 2015 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس سے ایران کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے طویل تنازع کا خاتمہ ہوا تھا۔ تاہم ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران 2018 میں اس معاہدے سے انخلا کر لیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر میں نے معاہدہ منسوخ نہ کیا ہوتا اور ہم نے اپنے بی-2 بمبار طیاروں سے ایران کے جوہری مقامات پر حملہ نہ کیا ہوتا تو ان کے پاس آج جوہری ہتھیار ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ایران تنازع وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گا اور ایرانی شدت سے معاہدہ چاہتے ہیں۔امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جبکہ جون میں واشنگٹن اور تہران نے جنگ بندی کی یادداشت پر دستخط کیے تھے، تاہم امریکا نے جولائی میں ایران پر بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع کر دیے۔