روس کے معروف صحافی، ٹیلی ویژن میزبان، دستاویزی فلم ساز اور “گلوبل انرجی” ایسوسی ایشن کے صدر سرگئی بوریسووچ بریلیف نے کہا ہے کہ دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور پائیدار ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “گلوبل انرجی” ایوارڈ میں اب ترقی پذیر ممالک کے سائنس دانوں اور ان کی تحقیقی کاوشوں کی شرکت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں توانائی کے شعبے میں قابل قدر صلاحیت موجود ہے۔
المیت یفسک میں منعقدہ آئل سمٹ کے موقع پر صدائے روس کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سرگئی بریلیف نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں عالمی سیاسی صورتحال اور مختلف چیلنجز کے باوجود “گلوبل انرجی” ایوارڈ کے لیے دنیا بھر سے موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایوارڈ کے لیے زیادہ تر درخواستیں امریکا، یورپ، روس، چین اور شمالی ممالک سے موصول ہوتی تھیں، تاہم اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور تقریباً ایک تہائی درخواستیں ترقی پذیر ممالک سے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں تحقیق اور جدت کے نئے مراکز کے ابھرنے کی نشاندہی کرتی ہے۔
سرگئی بریلیف نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے سائنس دانوں کی تحقیقات کا فائنل مرحلے تک پہنچنا اور بعض اوقات ایوارڈ حاصل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے پاس بھی عالمی معیار کی مسابقتی ٹیکنالوجیز موجود ہیں اور انہیں اپنے سائنسی امکانات پر اعتماد کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بعض ممالک میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں مشکلات کی ایک بڑی وجہ “برین ڈرین” بھی ہے، کیونکہ بہت سے باصلاحیت سائنس دان بہتر مواقع کے لیے امریکا اور یورپ منتقل ہو جاتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود ترقی پذیر ممالک میں توانائی کے نظام کو جدید بنانے کی ضرورت بہت زیادہ ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں توانائی تک رسائی ایک اہم مسئلہ ہے۔
سرگئی بریلیف کے مطابق “گلوبل انرجی” کا مقصد صرف سائنسی کامیابیوں کو تسلیم کرنا نہیں بلکہ حکومت، کاروباری اداروں اور سائنسی برادری کے درمیان تعاون کو فروغ دینا بھی ہے، تاکہ توانائی کے شعبے میں پائیدار اور مؤثر حل تلاش کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے افریقہ، لاطینی امریکا اور جنوبی ایشیا سے آنے والی درخواستوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں پاکستان بھی “گلوبل انرجی” کے بین الاقوامی پروگراموں کا حصہ بنے گا اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
توانائی کا مستقبل: تیل، گیس، ایٹمی اور قابل تجدید ذرائع میں توازن ضروری
دنیا میں تیل، گیس، جوہری توانائی اور قابل تجدید توانائی کے مستقبل کے حوالے سے اشتیاق ہمدانی کے سوال کے جواب میں سرگئی بریلیف نے کہا کہ آنے والے دس برسوں میں عالمی توانائی کا توازن یقیناً تبدیل ہوگا، تاہم ہر ملک کو اپنی ضروریات، وسائل اور جغرافیائی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی توانائی پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔
انہوں نے روس کے توانائی نظام کو ایک متوازن ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس میں 30 فیصد سے زیادہ توانائی ایسے ذرائع سے حاصل ہوتی ہے جنہیں حقیقی معنوں میں قابل تجدید کہا جا سکتا ہے، جن میں پن بجلی اور جوہری توانائی شامل ہیں۔ ان کے مطابق توانائی کا مستقبل مختلف ذرائع کے متوازن امتزاج میں ہے۔
سرگئی بریلیف نے کہا کہ تیل اور گیس کو صرف ایندھن کے طور پر استعمال کرنا مناسب نہیں، بلکہ یہ قیمتی صنعتی خام مال ہیں جن سے پیٹروکیمیکل اور گیس کیمیکل مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا، “تیل اور گیس کی اصل قدر صرف انہیں جلانے میں نہیں بلکہ ان سے نئی صنعتی مصنوعات تیار کرنے میں ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی منتقلی کے عمل میں صرف مقبول رجحانات یا وقتی فیشن کو نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ معاشرے کی حقیقی ضروریات کو ترجیح دینی چاہیے۔ ہر ملک کے لیے ایک ہی توانائی ماڈل مؤثر نہیں ہو سکتا، کیونکہ مختلف ممالک کے قدرتی وسائل اور حالات مختلف ہوتے ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے شمسی توانائی ایک اہم موقع
سرگئی بریلیف نے کہا کہ پاکستان جیسے جنوبی ممالک میں شمسی توانائی کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سورج کی روشنی زیادہ دستیاب ہے وہاں شمسی توانائی ایک مؤثر اور فائدہ مند ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ توانائی کے شعبے میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہر ملک اپنی مقامی صورتحال کے مطابق ذرائع کا انتخاب کرے۔ کسی ملک کے لیے شمسی توانائی زیادہ موزوں ہو سکتی ہے، جبکہ کسی دوسرے ملک میں پن بجلی، جوہری توانائی یا دیگر ذرائع زیادہ بہتر ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ عوام کو قابل اعتماد، سستی اور مسلسل دستیاب توانائی فراہم کی جائے۔

پاکستان اور “گلوبل انرجی” کے درمیان تعاون کے امکانات
پاکستان کے ساتھ “گلوبل انرجی” ایوارڈ اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے امکانات کے حوالے سے سوال کے جواب میں سرگئی بریلیف نے کہا کہ دونوں کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تعاون کا مقصد کسی ملک پر کوئی مخصوص ٹیکنالوجی مسلط کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ عالمی سطح پر موجود جدید حل کو متعلقہ ملک کی ضروریات، وسائل اور حالات کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ “گلوبل انرجی” کا بین الاقوامی پروگرام “علاقائی سے عالمی سطح تک” کے اصول پر کام کرتا ہے، جس کا مقصد مختلف خطوں کے تجربات، سائنسی کامیابیوں اور توانائی کے حل کو عالمی تعاون کے ساتھ جوڑنا ہے۔
سرگئی بریلیف نے کہا کہ وہ مستقبل میں پاکستانی توانائی ماہرین، سائنس دانوں اور حکام کے ساتھ مزید ملاقاتوں کے خواہاں ہیں تاکہ توانائی کے شعبے میں تعاون کے نئے راستے تلاش کیے جا سکیں۔