ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت میں قومی زبان کے فروغ اور تکنیکی تعلیم کو عام فہم بنانے کے لیے ایک منفرد اسکیم متعارف کرائی گئی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ قدم ریاست مدھیہ پردیش کی وزارت تعلیم نے اٹھایا ہے، جس پر شہر اندور کی شری جی ایس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنس پہلی جامعہ بنی ہے۔
اس خود مختار سرکاری جامعہ نے بیچلر آف ٹیکنالوجی کے رواں تعلیمی سیشن سے سول انجینئرنگ ہندی زبان میں پڑھانے کا آغاز کر دیا ہے۔ مدھیہ پردیش کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بی ٹیک ہندی میڈیم کے اس خصوصی بیچ میں داخلہ لینے اور فائنل ایئر تک تعلیم جاری رکھنے والے طلبا کو 2 لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد قومی زبان میں انجینئرنگ کی تعلیم کو عام کرنا اور سیشن کے دوران کورس چھوڑنے کی شرح کو کم کرنا ہے۔ اس خصوصی ہندی میڈیم بیچ کے لیے 30 نشستیں مختص کی گئی ہیں، جن میں سے 20 طلبا پہلے ہی داخلہ لے چکے ہیں۔
یہ قدم بھارت کی نئی قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق اٹھایا گیا ہے تاکہ ان باصلاحیت طلبا کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے جو انگریزی زبان پر مکمل عبور نہ ہونے کے باعث انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے سے کتراتے تھے۔