بھارت کو ایران جنگ میں امن کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے، ششی تھرور

Shashi Tharoor Shashi Tharoor

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

بھارتی سیاستدان اور بھارتی نیشنل کانگریس کے رکن کے رکن ششی تھرور نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران میں پاکستان کا ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آنا نئی دہلی کے لیے سنجیدہ اور مثبت ردِعمل کا تقاضا کرتا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کو ایران جنگ کے تناظر میں امن کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے، چاہے مذاکرات میں سہولت کاری کسی بھی ملک کی جانب سے کی جا رہی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عسکری قیادت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان روابط ایک عملی حقیقت ہیں جو روایتی سفارتی ڈھانچے سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں۔

ششی تھرور کے مطابق اگر پاکستان اس عمل میں کامیاب ہوتا ہے تو بھارت کو سب سے پہلے اس کامیابی کا خیر مقدم کرنا چاہیے، کیونکہ ایٹمی صلاحیت کے حامل خطے میں استحکام تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے بھارتی پالیسی سازوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس پیش رفت پر اسٹریٹیجک بے چینی یا غیر ضروری تنقید سے گریز کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور محض تماشائی بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔

ششی تھرور نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جس کے باعث کسی بھی علاقائی تنازع کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں، لہٰذا اس تنازع کے حل میں پاکستان کی دلچسپی فطری ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ “جنگل کا قانون” کسی کے مفاد میں نہیں ہوتا کیونکہ اس سے تمام ممالک طاقتور قوتوں کے رحم و کرم پر آ سکتے ہیں۔