ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملے میں امریکہ کا ایک اہم ایئر فورس ای-3 سینٹری اے ڈبلیو اے سی ایس کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ “100 فیصد تباہ” ہو گیا ہے۔ آئی آر جی سی نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ جمعہ کے روز سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس پر کیے گئے حملے میں اس جاسوسی طیارے سمیت متعدد امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ “امریکی دہشت گرد فوج کی دشمنانہ کارروائیوں” کے جواب میں کیا گیا۔ بیس ریاض سے تقریباً 96 کلومیٹر (60 میل) جنوب مشرق میں واقع ہے۔ ایران نے حملے میں 6 سے زائد بالیسٹک میزائلوں اور 29 یو اے ویز (ڈرونز) کا استعمال کیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس حملے میں کم از کم 15 امریکی فوجی زخمی ہوئے جن میں سے 5 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے Air & Space Forces Magazine نے بھی ہفتے کے روز پرنس سلطان ایئر بیس پر ایک اے ڈبلیو اے سی ایس طیارے کی تباہی کی تصدیق کی تھی۔ او ایس آئی این ٹی ڈیفنڈر نے ایکس پر وہ تصاویر شائع کیں جن میں طیارے کے پچھلے حصے میں واقع گھومنے والے ریڈار ڈوم کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایرانی براڈکاسٹر پریس ٹی وی نے سیٹلائٹ تصاویر جاری کیں جن میں سعودی بیس پر کئی طیاروں کی تباہی دکھائی دیتی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے میڈیا سے رابطہ کرنے پر طیارے کے نقصان کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اوپن سورس فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق پرنس سلطان ایئر بیس پر کم از کم چھ ایسے طیارے تعینات تھے۔ ایران نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اس بیس کو تین بار نشانہ بنایا ہے۔ Boeing نے 1977 سے 1992 کے درمیان تقریباً 70 ای-3 سینٹری طیارے تیار کیے تھے جن میں سے 16 اب بھی امریکی ایئر فورس میں فعال ہیں۔ یہ طیارے تمام موسموں میں نگرانی، کمانڈ، کنٹرول اور مواصلات کی خدمات فراہم کرتے ہیں اور اپنی عمر کے باوجود امریکی فوجی آپریشنز کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
ایک ای-3 سینٹری طیارے کی تعمیر پر تقریباً 270 ملین ڈالر خرچ ہوتے ہیں جبکہ اس کے متبادل کے طور پر دیکھے جانے والے ای-7 ویج ٹیل طیارے کی قیمت 700 ملین ڈالر سے زائد ہے۔