خلیج میں امریکی ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر تباہ کر دیا جائے گا، ایران کا سخت انتباہ

mohsen rezaei mohsen rezaei

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران خلیج میں امریکی ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دے گا۔ ہفتے کے آخر میں نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں پریس ٹی وی سے بات کرتے ہوئے رضائی نے متحدہ عرب امارات اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد امریکی اثاثوں کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے ان کی مالیت 2 ٹریلین ڈالر سے زائد بتائی اور انہیں “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض” قرار دیا۔ انہوں نے کہا ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے نشانوں میں شامل نہیں کیا۔ لیکن اگر جنگ چھڑ جاتی ہے تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر مقامات تباہ ہو جائیں گے۔ رضائی نے کہا کہ تہران نے پہلے کی لڑائی کے دوران جان بوجھ کر کچھ فوجی صلاحیتیں روکی ہوئی تھیں، لیکن اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوئی تو وہ انہیں استعمال کرنے اور “دشمن کا سامنا ایک کہیں زیادہ وسیع اور جامع منصوبے کے ساتھ کرنے” کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی مہم شروع کی تھی۔ اگرچہ لڑائی اس کے بعد کم ہو گئی ہے، لیکن واشنگٹن کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری ہے، جبکہ ہرمز کے راستے جہاز رانی بھی متاثر ہے۔ پاکستان، قطر اور عراق کے ذریعے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ رضائی نے کہا کہ واشنگٹن نے تنازعے کے حل کے لیے تہران کی سات شرائط میں سے کچھ قبول کر لی ہیں، لیکن دیگر کو غیر واضح چھوڑ دیا ہے، جس کی وجہ سے اس کا جواب ناکافی ہے۔ ایران کے مطالبات میں بحری ناکہ بندی ہٹانا، تمام محاذوں پر دشمنی ختم کرنا اور منجمد اثاثے جاری کرانا شامل ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا کہ ثالثوں کے ذریعے رابطے جاری ہیں اور تہران واشنگٹن کے تازہ نکات کا جائزہ لے رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایرانی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران “معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن یہ وہ معاہدہ نہیں جو میں کرنا چاہتا ہوں۔” انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ امریکی حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز پر “مکمل کنٹرول کھو دیا” ہے اور تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ رہی ہے۔ تاہم، رضائی نے واشنگٹن کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ آبنائے کھلا ہوا ہے اور اصرار کیا کہ ایران اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول برقرار رکھے گا۔ انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ متحدہ عرب امارات کی فوجی مدد سے تیل کی اسمگلنگ کی کارروائیوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے متضاد بیانات کے درمیان اس اہم آبی گزرگاہ میں سیکیورٹی خطرات برقرار ہیں۔ گزشتہ ہفتے عمان کے قریب ایک تیل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس میں عملے کے 12 افراد زخمی ہو گئے۔ کسی بھی فریق نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ دریں اثنا، مشرق وسطیٰ کے بحران کے ردعمل میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ پیر کے روز برینٹ کروڈ ایک بیرل 106 ڈالر سے اوپر پہنچ گیا کیونکہ سعودی عرب پر حوثی حملوں نے علاقائی سپلائی سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا۔ سعودی آرامکو کے سی ای او امین ناصر نے خبردار کیا کہ جب تک ہرمز مکمل طور پر دوبارہ نہیں کھلتا، توانائی کی زنجیر پر دباؤ بڑھتا رہے گا۔