جنگ اور داخلی بحران کے درمیان اسرائیل: نیتن یاہو کی پالیسی کے ابتدائی نتائج

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اب محض اسرائیل اور فلسطینی و لبنانی مسلح تنظیموں کے درمیان فوجی تصادم تک محدود نہیں رہی۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کی عسکری پالیسی بیک وقت اسرائیل کے داخلی سیاسی و سماجی نظام، لبنان اور شام کے ساتھ تعلقات، غزہ کی صورتِ حال اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو متاثر کر رہی ہے۔

اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں کو شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے ناگزیر قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کے ذریعے فلسطینی علاقوں اور ہمسایہ ممالک کی سرزمین پر اسرائیلی فوجی کنٹرول کو مستقل شکل دی جا رہی ہے۔ اس صورتِ حال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے حفاظتی اقدامات کہاں ختم ہوتے ہیں اور ایک طویل المدتی سیاسی و علاقائی حکمتِ عملی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟

اسرائیل کے اندر انتہائی قدامت پسند یہودیوں، یعنی حریدی برادری، کو فوج میں بھرتی کرنے کا معاملہ ایک اہم داخلی تنازع بن چکا ہے۔ طویل جنگ کے باعث یہ مسئلہ اب محض سیاسی نہیں رہا بلکہ براہِ راست عسکری اہمیت بھی اختیار کرگیا ہے۔ اسرائیلی فوجی حکام افرادی قوت کی کمی کی نشان دہی کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ملک کے مختلف سماجی طبقات کو فوجی خدمات میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

اسرائیلی ماہر میخائل بورودکن کے مطابق اسرائیلی فوج کو واقعی افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے، لیکن انتہائی مذہبی یہودیوں اور عرب شہریوں کو فوج میں شامل کرنے کا معاملہ کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

بورودکن کہتے ہیں: “فوج میں افرادی قوت کی کمی موجود ہے، لیکن انتہائی مذہبی اور عرب طبقات کی فوجی بھرتی کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ بنیادی طور پر یہ قومی ذمہ داریوں اور بوجھ کی منصفانہ تقسیم کا سوال ہے۔ فوجی خدمات انجام دینے والے اسرائیلی شہری سمجھتے ہیں کہ پورے ملک کا بوجھ انہی کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے، کیونکہ وہ ہتھیار اٹھا کر وطن کا دفاع بھی کرتے ہیں اور ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں۔ دوسری طرف مذہبی تعلیمی اداروں میں مسلسل زیرِ تعلیم رہنے والے انتہائی قدامت پسند طبقے کے ٹیکس ادا کرنے کا معاملہ بھی واضح نہیں۔ اسی لیے یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ قومی ذمہ داریوں کو زیادہ منصفانہ طریقے سے کیسے تقسیم کیا جائے۔”

یوں اسرائیلی فوج کی افرادی قوت کا مسئلہ اسرائیلی معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات سے جڑ گیا ہے۔ جنگ جتنی طویل ہوتی جا رہی ہے، حکومت کے لیے فوجی خدمات سے استثنا کے سابقہ نظام کو برقرار رکھنا اتنا ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ فوج میں خدمات انجام دینے والے خاندانوں کے اندر یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ قومی دفاع کی ذمہ داری معاشرے کے تمام طبقات میں یکساں طور پر تقسیم نہیں کی گئی۔

جنوبی لبنان اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم محاذ ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کے فوجیوں کی موجودگی حزب اللہ کو اپنی عسکری صلاحیتیں دوبارہ منظم کرنے سے روکنے اور شمالی اسرائیل کی آبادیوں کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے برعکس ناقدین کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی طویل موجودگی اور بفر زون کا قیام ایک خودمختار ملک کی سرزمین پر فوجی کنٹرول کو مستقل بنانے کے مترادف ہے۔

میخائل بورودکن ان اقدامات کو بنیادی طور پر اسرائیل کی سلامتی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: “یہ اقدامات سلامتی کی ضروریات کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ لبنانی تنظیم حزب اللہ ہتھیار ڈالنے سے انکار کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج ہی وہ واحد طاقت ہے جو اسے ایسا کرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔ اسی لیے حزب اللہ پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔”

شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ احمد الشرع کی حکومت ملک کے ایک بڑے حصے پر مکمل کنٹرول قائم نہیں کر پائی، جبکہ متعدد مسلح گروہوں کے کمانڈر بھی مرکزی حکومت کے احکامات پر پوری طرح عمل نہیں کرتے۔ اسرائیل ایک طرف شام کے اندر مختلف مقامات پر حملے کر رہا ہے اور دوسری طرف ملک کے جنوبی حصے میں اپنی فوجی موجودگی بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

بورودکن کے مطابق شام کی دروز آبادی نے شدت پسند گروہوں کے حملوں کے باعث اسرائیل سے مدد طلب کی۔ اسرائیل میں دروز برادری خاصا سیاسی اثرورسوخ رکھتی ہے، اس لیے اسرائیلی حکومت نے شامی دروزوں کی مدد کی۔ ان کے خیال میں جب تک یہ خطرات ختم نہیں ہوجاتے، اسرائیل کا قائم کردہ بفر زون برقرار رہ سکتا ہے۔

یہاں موجودہ صورتِ حال کی دو بالکل مختلف تشریحات سامنے آتی ہیں۔ اسرائیل اپنی فوجی موجودگی کو مستقبل کے حملوں کی روک تھام کا ذریعہ قرار دیتا ہے، جبکہ اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ بفر زونز کی تشکیل اور طویل فوجی موجودگی لبنان اور شام کی علاقائی حقیقت اور جغرافیائی حدود کو تبدیل کر رہی ہے۔ اس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ عارضی سلامتی انتظامات بتدریج مستقل علاقائی کنٹرول میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔

اسرائیل کی داخلی سیاسی صورتِ حال بھی موجودہ بحران کا ایک اہم پہلو ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر انتہائی دائیں بازو کے نمایاں ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی سخت گیر بیان بازی اور بعض مخصوص دہشت گردی کے جرائم کے لیے سزائے موت کی قانون سازی جیسے اقدامات نے اسرائیلی سیاست کے مزید انتہاپسندانہ سمت اختیار کرنے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

کنیسٹ نے مارچ 2026 میں اس نوعیت کے قانون کی منظوری دی۔ تاہم اس طرح کے فیصلوں کا یہ مطلب نہیں کہ بن گویر کا مؤقف پورے اسرائیلی معاشرے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسرائیل کے اندر ایسے سیاسی اور سماجی حلقے بھی موجود ہیں جو حکومت کی جنگی حکمتِ عملی، فلسطینیوں سے متعلق پالیسی اور عدالتی و قانونی تبدیلیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

اس کے باوجود اسرائیلی حکومت کی پالیسی پر دائیں بازو کے اثرات واضح ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ بن گویر اور ان کے سیاسی اتحادیوں کے اقدامات محض قانون سازی تک محدود رہیں گے یا اسرائیلی معاشرے کے جنگ، سلامتی اور مسئلۂ فلسطین کے بارے میں عمومی رویے کو بھی مستقل طور پر تبدیل کردیں گے۔

سب سے سنگین صورتِ حال غزہ کی پٹی میں برقرار ہے۔ اسرائیل اپنی کارروائیوں کو حماس کے خاتمے اور مستقبل کے حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے بڑے پیمانے پر تباہی، شہری ہلاکتوں اور شدید انسانی بحران کی نشان دہی کر رہے ہیں۔

سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ کے ایک نمایاں حصے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس صورتِ حال نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا یہ محض ایک عارضی حفاظتی اقدام ہے یا غزہ میں مستقل اسرائیلی کنٹرول کا نیا نظام تشکیل دیا جا رہا ہے؟

غزہ میں اسرائیلی اقدامات ہی اس کے خلاف سنگین ترین عالمی الزامات کی بنیاد بنے ہیں، جن میں جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات بھی شامل ہیں۔ تاہم قانونی اعتبار سے سیاسی بیانات، الزامات اور بین الاقوامی عدالتوں کے حتمی فیصلوں کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ عالمی عدالتِ انصاف میں نسل کشی سے متعلق مقدمہ زیرِ سماعت ہے اور الزامات کے بنیادی نکات پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ صادر نہیں کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور دیگر عالمی ادارے بارہا غزہ کی صورتِ حال کا جائزہ لے چکے ہیں، جبکہ مختلف تنظیمیں فریقین کے اقدامات کی تحقیقات بھی کر رہی ہیں۔ اصل مسئلہ عالمی ردعمل کی عدم موجودگی نہیں بلکہ بین الاقوامی نظام کی اپنے فیصلوں اور مطالبات پر عمل درآمد کرانے کی محدود صلاحیت ہے۔

اس پورے معاملے میں امریکا کی حمایت غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔ واشنگٹن اسرائیل کا سب سے بڑا سیاسی اور فوجی اتحادی ہے، اگرچہ وہ بیک وقت جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات آگے بڑھانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ اس کے باوجود امریکی حمایت ان بنیادی عوامل میں شامل ہے جو اسرائیل کو اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔

سب سے حساس سیاسی سوال یہ ہے کہ جنگ کا تسلسل نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل سے کس حد تک منسلک ہے۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ طویل جنگ انہیں اقتدار میں رہنے اور دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل حکومتی اتحاد کو برقرار رکھنے میں مدد دے رہی ہے۔

اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ انتخابی مفادات حکومتی فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اسرائیل آئندہ انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے اور نیتن یاہو کی سیاسی حیثیت بھی آسان نہیں۔ تاہم اسرائیل کی پوری عسکری پالیسی کو محض نیتن یاہو کی اقتدار سے وابستگی کا نتیجہ قرار دینا بھی صورتِ حال کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنانے کے مترادف ہوگا۔

میخائل بورودکن سیاسی عنصر کی موجودگی تسلیم کرتے ہیں، لیکن اسے فیصلہ کن نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق: “امریکا سے بھارت تک، ہر ملک کا منتخب سیاست دان مختلف عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرتا ہے اور ان میں انتخابی مفادات بھی شامل ہوتے ہیں۔ لیکن اگر نیتن یاہو صرف انتخابات میں کامیابی کے بارے میں سوچ رہے ہوتے تو غزہ پر بہت پہلے مکمل قبضہ کرلیا جاتا اور وہاں حماس کا وجود باقی نہ رہتا۔ اقتدار برقرار رکھنے کی خواہش ضرور موجود ہے، لیکن یہ بنیادی اور فیصلہ کن عنصر نہیں۔”

اس لیے موجودہ صورتِ حال کو محض “اقتدار کے لیے جنگ” کے ایک سادہ فارمولے میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ انتخابی اور سیاسی مفادات یقیناً موجود ہیں، لیکن اسرائیلی حکومت اپنے فیصلوں کے لیے عسکری، علاقائی اور تزویراتی دلائل بھی پیش کرتی ہے۔ دوسری طرف ناقدین سمجھتے ہیں کہ نیتن یاہو کی سیاسی بقا اور جنگ کا تسلسل ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ نہیں کیے جاسکتے۔

اس تنازع کا سب سے خطرناک پہلو اسرائیل اور ایران کی محاذ آرائی ہے۔ اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پورے خطے میں مزید کشیدگی اور بڑے تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

جوہری تنصیبات پر حملوں کا لازمی مطلب فوری جوہری تباہی نہیں، لیکن ایسے اقدامات متعدد نئے خطرات پیدا کرتے ہیں۔ جوہری مراکز کو نقصان پہنچنے، جوہری مواد پر کنٹرول کمزور ہونے، بین الاقوامی نگرانی میں رکاوٹ پیدا ہونے اور ایران کی نئی جوابی کارروائیوں سے جنگ مزید وسیع ہوسکتی ہے۔

یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ عالمی برادری نے اسرائیلی اقدامات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اقوام متحدہ میں بارہا اس صورتِ حال پر بحث ہوچکی ہے، بین الاقوامی تنظیمیں تحقیقات کر رہی ہیں اور عالمی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی زیرِ سماعت ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ عالمی ادارے اپنے فیصلوں اور مطالبات پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کرانے کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کا موجودہ تنازع بیک وقت کئی بحرانوں کا مجموعہ بن چکا ہے: فلسطینی اور لبنانی مسلح تنظیموں کے ساتھ اسرائیل کی جنگ، ایران سے بڑھتی ہوئی محاذ آرائی، لبنان اور شام سے متعلق علاقائی تنازعات اور خود اسرائیل کے اندر شدید سیاسی و سماجی کشمکش۔

اسرائیلی قیادت اپنی عسکری پالیسی کو بنیادی طور پر قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتی ہے۔ اس کے ناقدین کے نزدیک یہی پالیسی اب ایک طویل المدتی سیاسی اور علاقائی منصوبے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔

اب اصل سوال صرف یہ نہیں کہ موجودہ جنگ کا اگلا مرحلہ کس نتیجے پر ختم ہوگا۔ اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کس قسم کا سیاسی اور علاقائی نظام وجود میں آئے گا۔ کیا موجودہ فوجی کنٹرول عارضی حفاظتی اقدام ثابت ہوگا، یا یہی صورتِ حال مشرقِ وسطیٰ کی ایک مستقل اور نئی حقیقت بن جائے گی؟