روس قومی مفادات کے تحفظ تک فوجی آپریشن جاری رکھے گا، پیسکوف

Dmitry Peskov Dmitry Peskov

ماسکو (صداۓ روس)

روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے ایسٹونیا کی جانب سے تالین میں ایک فوجی تنصیب میں آتش زنی کے واقعے میں روس کے ملوث ہونے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ روس کو مغربی ممالک کی جانب سے ماسکو کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کوئی معقول تجویز موصول نہیں ہورہی، جو خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھنے کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اپنے قومی مفادات کے مکمل تحفظ کے لیے خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔

دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس میں کام کرنے والی مغربی کمپنیوں کے لیے عارضی انتظام متعارف کرانے سے متعلق صدارتی احکامات کا مقصد ملکیت تبدیل کرنا نہیں بلکہ بیرونی انتظام نافذ کرنا ہے۔ ان کے مطابق ان فیصلوں میں روس کے خلاف براہ راست جنگی کارروائیوں میں غیر دوست ممالک کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے اور ان کمپنیوں کا غیر دوست ممالک سے تعلق اس معاملے میں ایک اہم عنصر ہے۔ پیسکوف نے کہا کہ عارضی انتظام کا عمل واپس بھی لیا جاسکتا ہے، تاہم فی الحال کریملن کو ان غیر دوست ممالک کی جانب سے مذاکرات میں دلچسپی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عارضی انتظام ختم کرنے کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں۔

روسی صدارتی ترجمان نے بتایا کہ صدر ولادیمیر پوتن منگل کو کریملن میں ریپبلکا سرپسکا کے وزیر اعظم ساوو منیچ اور اس خطے کی حکمراں جماعت الائنس آف انڈیپنڈنٹ سوشل ڈیموکریٹس کے رہنما میلوراد ڈوڈک سے ملاقات کریں گے۔