ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سلیا فلورس نے امریکی حراست میں اپنی بگڑتی ہوئی صحت کے باعث گھر پر نظر بندی کی درخواست دائر کر دی ہے۔ ان کے وکلاء نے بدھ کو نیویارک کی وفاقی عدالت میں یہ درخواست جمع کرائی۔ درخواست کے مطابق 69 سالہ فلورس کئی سالوں سے مائٹرل والو پرولیپس کا شکار ہیں، لیکن امریکی افواج کی جانب سے جنوری میں گرفتاری اور بروکلین کے میٹروپولیٹن حراستی مرکز میں قید کے بعد سے انہیں اس بیماری کے لیے درکار ماہانہ انجیکشن نہیں مل سکا۔
وکلاء کے مطابق فلورس کو دل کے دورے کے خدشے کے پیش نظر نائٹروگلیسرین ساتھ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، اور انہیں چار مختلف ادویات تجویز کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فلورس کو سینے میں درد، بے ترتیب دھڑکن، سانس لینے میں دشواری اور چکر آنا جیسی شکایات کا سامنا ہے۔
فلورس کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ 29 جولائی کو انہیں ایک شدید طبی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا، جسے ممکنہ طور پر ہلکا دل کا دورہ قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم اس کی طبی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ڈاکٹروں نے انہیں کارڈیک کیتھیٹرائزیشن کا مشورہ دیا ہے، جس کے بعد مزید دل کے آپریشن کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ حراستی مرکز میں ایسی سہولیات موجود نہیں جو دل کی سرجری کے بعد مناسب بحالی کو یقینی بنا سکیں۔ انہوں نے درخواست میں کہا کہ فلورس 40 سے زائد قیدیوں کے ساتھ ایک ایسے ماحول میں رہ رہی ہیں جہاں وہ دن میں تین سے چار گھنٹے سے زیادہ آرام نہیں کر پاتیں۔ وکلاء نے تجویز دی ہے کہ فلورس کو مین ہٹن کے وفاقی عدالتی دائرے میں واقع ایک رہائش گاہ میں منتقل کیا جائے، جہاں انہیں چوبیس گھنٹے مسلح نگرانی، الیکٹرانک ٹخنے کا پٹہ اور پاسپورٹ ضبطی جیسی سخت شرائط کے تحت رکھا جائے۔
واضح رہے کہ امریکی افواج نے 3 جنوری کو کاراکاس میں ایک فوجی کارروائی کے دوران مادورو اور فلورس کو گرفتار کیا تھا۔ دونوں پر منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کی سماعت جون 2027 میں متوقع ہے۔ دونوں نے الزامات سے انکار کیا ہے۔