ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
مہاتما گاندھی نے 26 نومبر 1938 کو اپنے ہفت روزہ جریدے ’ہریجن‘ میں شائع ہونے والے مضمون “The Jews” میں فلسطین کے بارے میں اہم موقف کا اظہار کیا تھا۔ گاندھی نے لکھا تھا فلسطین عربوں کا ہے اسی طرح جیسے انگلینڈ انگریزوں کا ہے یا فرانس فرانسیسیوں کا۔ یہ غلط اور غیر انسانی ہے کہ یہودیوں کو عربوں پر مسلط کیا جائے۔”
1930 کی دہائی کے آخر میں نازی جرمنی میں یہودیوں پر شدید مظالم بڑھ رہے تھے اور صیہونی تحریک فلسطین میں یہودی وطن کے قیام کی کوشش کر رہی تھی۔ اس تناظر میں دنیا بھر کے لوگوں نے گاندھی کا موقف جاننا چاہا۔ گاندھی نے یہودیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم پر ہمدردی کا اظہار کیا، لیکن زور دیا کہ یہودیوں کو عربوں کی رضامندی کے بغیر فلسطین میں آباد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے طاقت کے ذریعے یا نوآبادیاتی حمایت سے ریاست بنانے کی مخالفت کی۔ گاندھی کا موقف یہ تھا کہ یہودی صرف عربوں کی رضامندی سے ہی فلسطین میں رہ سکتے ہیں، غیر تشدد (ستیہ گرہ) ہی واحد راستہ ہے.. ایک گروہ کو دوسرے پر مسلط کرنا اخلاقی طور پر غلط ہے. فلسطین زیادہ تر مذہبی تصور ہے نہ کہ سیاسی دعویٰ