روس کی نیٹو کو کیلینن گراڈ کے معاملے پر سخت وارننگ

Dmitry peskov with Putin Dmitry peskov with Putin

ماسکو (صداۓ روس)

روس نے نیٹو کو خبردار کیا ہے کہ کیلینن گراڈ کے قریب فوجی مشقوں میں اضافے اور اتحاد کے بعض رکن ممالک کی جارحانہ بیان بازی سے روس اور نیٹو کے درمیان براہِ راست مسلح تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ بیلجیم میں قائم روسی سفارتخانے کے مطابق ماسکو نے نیٹو کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ بحیرہ بالٹک میں واقع اپنے علاقے کیلینن گراڈ کے تحفظ کے لیے ’’اپنے تمام دستیاب ذرائع‘‘ استعمال کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ روسی سفارتخانے کا یہ بیان پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسلاف سیکورسکی کے رواں ماہ دیے گئے بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کیلینن گراڈ میں ’’شاید ہی کوئی فوجی‘‘ موجود ہے اور نیٹو پر زور دیا تھا کہ روسی سرحدوں کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرے تاکہ ماسکو ’’اس بارے میں غیر یقینی کا شکار رہے کہ ہم کیا کریں گے‘‘۔

نیٹو کی ترجمان ایلیسن ہارٹ نے روسی پیغام موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے ماسکو پر غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو طاقت کے استعمال کی دھمکی، بالخصوص غیر ذمہ دارانہ جوہری بیان بازی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ مغربی حکام ماضی میں روسی جوہری بازدار قوت سے متعلق بیانات کو ’’بلیک میل‘‘ قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ نیٹو اپنے جوہری اشتراک کے انتظامات کو اجتماعی دفاع کا اہم ستون قرار دیتا ہے۔ فرانس نے دیگر یورپی نیٹو رکن ممالک میں اپنے جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تعیناتی پر بات چیت کی پیشکش بھی کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس سے اتحاد کا امریکا پر انحصار کم ہوسکتا ہے۔ موجودہ نیٹو جوہری اشتراک کے تحت امریکی جوہری بم یورپ کے بعض ممالک میں موجود ہیں جبکہ غیر جوہری رکن ممالک کے اہلکار ان کے ممکنہ استعمال سے متعلق تربیت حاصل کرتے ہیں۔ روس بارہا مغربی دعووں کو مسترد کرچکا ہے کہ وہ رواں دہائی کے اختتام سے قبل نیٹو پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ماسکو ان انتباہات کو جنگی جنون پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتا ہے جس کا مقصد رائے عامہ کو زیادہ فوجی اخراجات کی حمایت پر آمادہ کرنا ہے۔

دوسری جانب روس نیٹو کی فوجی تیاریوں کو اپنے خلاف ممکنہ حملے کی راہ ہموار کرنے کے طور پر دیکھتا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف متعدد مرتبہ خبردار کرچکے ہیں کہ روس اور نیٹو کے درمیان ایسا تنازع انتہائی مختصر ہوگا، جبکہ ان کے بیانات میں روس کے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ آئرلینڈ میں روسی سفارتخانے نے اس سے بھی زیادہ سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ کیلینن گراڈ کی ممکنہ ناکہ بندی کی کوشش کی صورت میں ماسکو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہے اور ایسے بحران میں پیشگی فوجی کارروائی پر بھی غور کرسکتا ہے۔ روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یورپ میں موجود ’’گرم سروں‘‘ کو روس کے فوجی نظریاتی دستاویزات کی یاد دلانا روسی سفارت کاروں کی جانب سے ایک فطری اقدام ہے۔ ان کا اشارہ پولینڈ اور دیگر ممالک کی جانب سے سامنے آنے والی حالیہ بیان بازی کی طرف تھا۔